تین طلاقوں کے بعد نکاح کا حکم شرعی اور کچھ ملحقات
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید کے لڑکے بکر نے اپنی منکوحہ کو ایک طلاق پہلی مرتبہ دی اور دو طلاقیں عرصہ بائیس دن بعد دی طلاق دینے کے ایک ہفتہ بعد یہ معلوم ہوا کہ منکوحہ ( بکر کی بیوی) حمل سے ہے۔ ایسی صورت میں منکوحہ اور بکر کے لئے کیا حکم ہے؟ جبکہ منکوحہ کے کوئی قریبی یا دور کا وارث نہیں ہے اور پھر بکر اور منکوحہ اور بکر کے وارثین اس بات پر راضی ہیں کہ منکوحہ کے ساتھ پھر نکاح کر دیا جائے۔ ایسی صورت میں عدت و نکاح کی کیا شرطیں ہیں؟ اور زید اپنے گھر میں بکر اور منکوحہ کوعلیحدہ علیحدہ رکھ کر عدت گزار سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ منکوحہ کا کوئی وارث نہیں ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں مدیل جواب عنایت فرما ئیں۔ فقط! مستفتی: مقبول الرحمن حشمتی معرفت مولا نا عبدالمجید انصاری حشمتی نوشہرہ ، بلرام پور ضلع گونڈہ (یوپی)
الجواب: بگر کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر بکر کے لئے ایسی حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ اس کے لئے کبھی حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ بعد جماع جب طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت اس دوسرے کی عدت گزار کر اس پہلے سے نکاح کر سکے گی ۔ قال تعالیٰ: اقلا تحل له مِن بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ الآية )) وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ،، لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) حاملہ کی عدت وضع حمل ہے اور حیض والی کی عدت تین حیض اور جسے حیض نہیں آتا اس کی عدت تین ماہ ہے اور چار ماہ کا حمل ساقط کرانا بہر حال گناہ عظیم ہے کسی طرح جائز نہیں اور اس سے کم کا بھی بے عذر شرعی ناجائز و گناہ ہے اور حالت حمل میں طلاق دینا گناہ ہے، اگر چہ طلاق دینے سے واقع ہو جائیگی بکر پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴/شعبان المعظم ۱۴۰۰ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی