غصے میں بار بار لفظ طلاق کہنے سے وقوع طلاق اور غیر شادی شدہ کی امامت کا حکم
ہوئے زید نے بیوی کے دو طمانچے مارے، طمانچے کھا کے زید کی منکوحہ بگڑ گئی اور برجستہ طنز اپکار اٹھی اپنی بہنوں کو دیکھ۔ یہ سن کر زید کو بہت غصہ آیا اور اس نے یہ کہ کر کہ میری بہنوں کی شادی ہوگئی ہے، میں ان کا ذمہ دار نہیں، وہ جانیں اور ان کے شوہر۔ زید نے چولہے کی ایک جلتی ہوئی لکڑی اٹھالی اور مارنے کے ارادہ سے آگے بڑھا لیکن زید کی ایک چھوٹی بہن جو قریب تھی ، حائل ہوگئی اور بھائی کو پکڑ لیا تو زید نے فورا پکاری ماردے سور کو، ماردے سور کو ۔ زید چونکہ پہلے ہی سے اس لئے کچھ چڑ چڑا تھا کہ ۳ ماہ بیمار رہا تھا، بیوی کا یہ جملہ سن کر اور آگ بگولہ ہو گیا اور پکار اٹھا کہ طلاق دی، طلاق دی، یہ جملہ زید نے ایک سانس میں نہ جانے کتنی بار کہا۔ زید کا کہنا یہ ہے کہ مجھے غصے میں یہ بالکل یاد نہیں کہ میں نے کتنی بار لفظ طلاق کہا۔ چونکہ حویلی میں زید کی بیوی کے والدین بھی تقریباً پونے دو سال سے رہتے ہیں، لہذا ان کا کہنا ہے کہ زید نے طلاق دے دی اور وہ اپنی لڑکی زید کی بیوی کو تیس بتیس گھنٹہ کے بعد وہاں سے لے کر دوسری جگہ ( وہ مکان چھوڑ کر چلے گئے۔ زید کی شادی کو تقریبا چھ سات سال ہو گئے اور تین بچے بھی ہیں۔ از راہ کرم جوا با تحریر فرمائیے گا کہ زید کی بیوی کی طلاق ہوئی کہ نہیں ؟ بہت سے لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ایک سانس میں لگا تارکی طلاق طلاق کہنے سے طلاق نہیں ہوتی بلکہ رُک رُک کر طلاق دینے پر طلاق ہوتی۔ (۲) کسی شخص کی عمر تقریباً چالیس پچاس سال ہو گئی اور اس نے سن بلوغت سے اب تک شادی نہیں کی ، یا وہ نامرد ہے اور امامت کرتا ہے۔ ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ (۳) اگر کسی شخص نے اٹھارہ میں سال کی عمر میں شادی کی اور دو تین سال بعد اس کی بیوی کا انتقال ہو گیا اور وہ شادی اب نہیں کرتا جبکہ اس کی عمر شادی کے لائق ہے اور آمدنی بھی ، اور وہ امامت کرتا ہے، اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں ؟ فقط والسلام ! المستفتى : الطاف حسین ولد شفاعت حسین سنتومالن ، نجیب آباد ضلع بجنور
الجواب: (1) صورت مسئولہ میں تین طلاقیں زید کی بیوی پر واقع ہوگئیں۔ اور بیوی اس پر ایسی حرام کہ اب بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عدت کے بعد عورت کسی سے نکاح صحیح کرے وہ اس سے جماع کے بعد اسے طلاق دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت بعد عدت پہلے سے نکاح کر سکے گی ۔ قال تعالیٰ: (حَتَّى تَنكِحَ زَوْجاً غيره) () وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : لاحتی تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲، ۳) ان دونوں کی امامت جائز ہے جبکہ لائق امامت متقی پرہیز گار ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی