غیر مطلقہ عورت کا دوسرے سے نکاح کرنا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کی شادی زاہدہ کے ساتھ ہوئی ، شادی کے عرصہ سال بھر تک زاہدہ اپنی سسرال میں رہی، لڑکی کے باپ کو یہ پتہ چلا کہ لڑکی کو بہت مارا پیٹا ، دیکھنے کی نیت سے گیا، زید نے لڑکی کے زیور اور کپڑے چھین کر، زاہدہ کو باپ کے ساتھ رخصت کر دیا۔ زاہدہ عرصہ ڈیڑھ سال تک بیٹھی رہی، زاہدہ کے باپ کھانا کپڑے کا خرچ برداشت کرتے رہے زید نے ایک عدالت کے ذریعہ وارنٹ گرفتاری نکلوائی لڑکی عدالت پر حاکم کے سامنے حاضر ہوئی حاکم نے لڑکی سے سوال کیا تم زید کے گھر جاؤ گی یا نہیں ؟ لڑکی نے جواب دیا کہ مار پیٹ کر زیور اور کپڑے چھین کر میرے باپ کے ساتھ رخصت کر دیا مجھے بڑی بے رحمی سے مارتے پیٹتے تھے ڈیڑھ سال تک اپنے باپ کے ساتھ رہی کوئی خرچہ خورا کی بھی نہیں دیا، نہیں جاؤں گی۔ تب حاکم نے یہ جواب دیا کہ تم جہاں چاہو جا سکتی ہو تمہارے اوپر کوئی جور و ظلم یا دھمکی نہیں دے سکتا ہے، بعد اس کے زاہدہ بکر کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرنے لگی ہے یہاں تک کہ پندرہ بیس سال کا وقت گزر گیا بکر جروا کے لوگوں کو بلایا کہ زید سے طلاق دلوا دولوگوں نے زید سے طلاق کے لئے کہا تو زید نے جواب دیا کہ نہ طلاق دوں گا اور نہ اپنے گھر لاؤں گا، مر جائے گی تو کام کر دوں گا ، ایسی صورت حال میں زید زاہدہ اور بکر کے اوپر کیا حکم لاگو ہوتا ہے؟ خلاصہ تحریر کریں۔ واپسی ڈاک سے جواب مرحمت کریں کیونکہ جواب کے واسطے لفافہ روانہ ہے۔ المستفتی: زاہد خان، محمد شیر خاں گاؤں باریڈ یہ لال گنج، پرتاپ گڑھ
الجواب: (1) کچہری کی آزادی شرعاً کوئی چیز نہیں ،طلاق کا اختیار شوہر کو ہے۔ قال تعالى: {بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ - الآية } () سورة البقرة: ٢٣٧ بغیر طلاق کے عورت کو دوسرے سے نکاح حرام قطعی ہے۔ قال تعالى: {وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاء - الآية } () كتاب الطلاق باب الطلاق زاہدہ اور اس کے والد اور جملہ واقفان حال شرکاء پر تو بہ لازم ہے بکر کو اگر نکاح کے وقت اس کے منکوحہ ہونے کا علم تھا تو اصلا نکاح ہی نہ ہوا اور قربت خالص زنا اور اگر علم نہ تھا تو نکاح فاسد ہوا، بعد علم متارکہ فرض تھا اور تاخیر گناہ ، زید نہایت ظالم جفا کار مستحق نار ہے ، اس پر لازم ہے کہ عورت کو بھلائی سے رکھے یا بھلائی سے چھوڑ دے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله