طلاق کے الفاظ صریحہ میں نیت کا اعتبار اور دباؤ کے تحت دی گئی طلاق کا حکم
کیا در بارہ طلاق الفاظ صریحہ میں نیت کا اعتبار ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: زیدا اپنی بیوی کو طلاق دینا نہیں چاہتا تھا مگر زید کے چند رشتہ داروں نے دباؤ ڈالا کہ تم اپنی بیوی کو تین طلاق دے دو محض دباؤ کی بنا پر اور اس خیال سے کہ ان لوگوں کی بات بھی رہ جائے اور طلاق بھی نہ ہوں ، انہوں نے یہ مضمون لکھ دیا کہ : میں خد اور سول کو حاضر و ناظر جان کر صحیح و ہوش وحواس میں رہ کر ہندہ بنت بکر کو طلاق مغلظہ یعنی تین طلاق دیتا ہوں۔ زید نے ہندہ سے نہ اپنی بیوی مراد لیا نہ بکر سے اپنا سر ۔ لہذا ایسی صورت میں طلاق ہوئی کہ نہیں ؟ بینوا بالکتاب و تو جر وایوم الحساب ! المستفتی: محمد احمدنعیمی خطیب جمعه مسجد ، کبیر چوک، سابرمتی ، احمد آباد
الجواب: جبکہ تین طلاق صریح لفظوں سے دی تو آب نیت کی حاجت نہیں۔ لہذا یہ عذر نہ سنا جائے گا کہ اس نے ہندہ سے اپنی زوجہ کو مراد نہ لیا، بیوی کا نام لے کر طلاق دی تو بیوی ہی پر طلاق پڑے گی، اس نام کی دوسری پر طلاق کیوں پڑیگی جبکہ وہ اجنبیہ ہے؟ حدیث میں ہے: لا طلاق قبل نکاح (۱) لہذا جبکہ اپنی بیوی کا نام لکھ کر طلاق لکھی تو تین طلاقیں اس پر واقع ہوگئیں اور بیوی اس پر ایسی حرام ہو گئی کہ اب بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ بعد جماع اسے طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت عدت کے بعد پہلے سے نکاح کر سکے گی ۔ قال تعالى: {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} (۲) وقال النبى سى : لا حتى تذوقی عسیلته ویذوق عسیلتک‘ (۳) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله