غصہ میں طلاق دینے کا حکم اور عدت میں رجعت کی صورت کا بیان
دینے سے انکار کیا، اس بات کو لے کر بات بڑھ گئی اور مجھ کو غصہ آ گیا، میں نے غصہ میں آکر اپنی بیوی سے کہا کہ طلاق دی ، دی اور مجھ کو میرے بھائی یونس نے دھکا دے کر دروازے سے باہر کر دیا، برائے کرم اس مسئلہ میں کیا شرعی حکم ہے؟ جواب دینے کی زحمت گوارہ فرما ئیں! المستفتی : اختر حسین معرفت وزیرالدین ناصری کیڑہ صدیق صدر بازار مین پوری گیٹ، فیروز آباد ضلع آگرہ
الجواب: صورت مسئولہ میں اقرار شوہر اور گواہان کے بیان کے بموجب دو طلاق رجعی واقع ہونے کا حکم ہے، عدت کے اندر شوہر کو رجعت کا اختیار تھا۔ عورت چونکہ تین طلاق کی مدعیہ ہے۔ لہذا اسے حلال نہیں کہ اس شخص سے بے حلالہ نکاح کرے۔ في البزازية قالت طلقني ثلاثا ثم ارادت تزویج نفسها منه ليس لها ذالک اصرت علیه اماکذبت نفسها “ (۱) اب جبکہ عدت گزر چکی ہے اور شوہر نے عدت میں رجعت نہ کی تو عورت کو اختیار ہے، جس سے نکاح جائز ہو، کرے۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۱۰ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۷ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی