تین طلاق کے وقوع اور حلالہ کے طریقہ کار کا بیان
(نوٹ): الہی بخش عرف منے نے طلاقنامے کی نقل میں لکھا: ” منے نے رمضان کی لڑکی آمنہ کو طلاق دی ، طلاق دی ، طلاق دی۔ اہل محلہ : رام نگر پوسٹ ڈیہ، ضلع رائے بریلی (یوپی)
الجواب: اگر یہ صورت واقعہ ہے کہ مئے مذکور نے طلاق نامہ مذکورلکھا تو اس کی بیوی پر اس کی رو سے تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور عورت اس پر اب ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ بعد جماع طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت پھر عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالى: (فَلا تَحِلُ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ) وقال النبی سا ل : " لا حتى تذوقى عسيلته ویذوق عسیلتک وہ عذر منے کا بیکار ہے، جب اس نے بہ رضا و خوشی ہے جبر وا کراہ طلاق لکھدی، واقع ہو گئی۔ وہ اگر اصلاً نام نہ لکھتا تو بھی واقع ہو جاتی۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله