تین طلاق کے بعد رجوع اور حلالہ کا شرعی حکم
طلاق مغلظہ دینے کے بعد اگر شوہر بیوی کو رکھنا چاہے تو اس کی کیا صورت ہوگی ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ذیل کے مسئلہ میں کہ: زید نے اپنی بیوی ہندہ کو درمیان تنازعہ کہہ دیا کہ میں نے تم کو طلاق دی ، طلاق دی، طلاق دی۔ آیا اس صورت میں ہندہ کو کتنی طلاق ہوئی ؟ نیز زید ہندہ کو رکھنا چاہے تو اس کی کیا صورت ہو گی ؟ مع حواله قرآن و حدیث واقوال ائمہ مجتہدین جواب مرحمت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ (نوٹ ): ہندہ عمر رسیدہ ہو چکی ہے۔ المستفتی: محمد ادریس ۱۶۔ الیں۔ کے مسلم روڈ کمرہٹی، کلکته-۵۸ (مغربی بنگال)
الجواب: زید کی بیوی ہندہ پر تین طلاقیں واقع ہو کر ہندہ زید کے لئے ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ زید کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو لازم ہے کہ عدت کے بعد دوسرے سے نکاح صحیح کے بعد ہمبستری کرائے پھر جب وہ طلاق دے دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عدت گزار کر زید سے نکاح کرے۔ قال تعالیٰ: (حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ) (1) (1) سورة البقرة: ٢٣٠ وقال النبي سلام : " لا حتى تذوقى عسيلته ويذوق عسیلتک) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۹ / رمضان المبارک ۱۴۰۰ ۵ صبح الجواب واصاب المجيب / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی