لفظ "دی، دی، دی" کی تکرار سے تین طلاقوں کے وقوع کا حکم
مجھے طلاق دی، دی، دی“ سے کتنی طلاق واقع ہوگی؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید اور ہندہ کے مابین جھگڑا ہوا اور اختلاف بے حد بڑھ جانے کے بعد زید نے ایک بار ہندہ سے کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی لیکن یہ لفظ ایک ہی بار کہا اور کئی بار کہا کہ دی، دی۔ اس بات کے گواہ بھی موجود ہیں ، جن کے نام یہ ہیں: (۱) واحد خاں ولد احمد علی خاں ۔ (۲) چھدن خاں ولد حامد خاں ۔ اور زید کی بیوی ابتدائی حمل سے ہے اور تین بچے کمسن ہیں۔ المستقنی: مهدن خاں
صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور ہند و زید پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ سے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ درمختار میں ہے: كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وان نوى التأكيد، دين لہذا جب تک دوسرے سے نکاح صحیح ہو کر جماع کے بعد طلاق یا موت یا عیاذ باللہ ردت شوہر سے نکاح زائل نہ ہو اور عدت نہ گزرے، ہندہ کا نکاح زید سے حرام قطعی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۰ شعبان المعظم ۱۴۰۸ھ / ۷ /اپریل ۱۹۸۸ء