نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق کا حکم اور ثبوتِ طلاق کا طریقہ
رہ سکا اور یک بیک اپنی بیوی پر بولا، بولتے ہیں کہ تو نے برا کیا اور اس نیک بیوی پر غیر مرد سے بدفعلی کا الزام لگایا اور بھی تکلیفیں دیں اور پاگلوں کی طرح کلام کرنے لگے اور اسی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق بھی دے دیا۔ اس حالت کو دیکھ کر ایک لڑکے نے کہیں سے تعویذ لا کر چائے کے ذریعہ خفیہ طور پر پلایا بس اس سے طبیعت اچھی ہو گئی بعد میں لوگوں نے کہا کہ تم نے اپنی بیوی کو طلاق کیونکر دی؟ تو زید بولا کہ تم جھوٹ کہتے ہو، میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی اور بیوی بھی کہتی ہے کہ مجھ کو طلاق نہیں دی گئی اور جس لڑکے نے چائے میں تعویذ دھو کر پلایا تھا، اُس لڑکے کا کہنا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں اور میں سنا ہوں طلاق دیتے ہوئے ، ہندہ اس کا جواب بہت جلد چاہتی ہے۔ فقط ۔ والسلام مستفتی : عنایت اللہ
الجواب: صورت مسئولہ میں بر تقدیر صدق سوال اگر فی الواقع زید کو پان میں کوئی نشہ آور چیز کھلائی گئی اور اسے کھاتے وقت اصلا علم نہ ہوا کہ وہ نشہ آورشی کھا رہا ہے اور اگر اس کے بعد اس کی عقل مختل ہوگئی تو اس کی بیوی پر طلاق کا حکم نہ ہوگا اور اگر کھاتے وقت علم ہو گیا تھا کہ یہ نشہ آور چیز ہے، جو پان میں ملائی ہے پھر اس نے پان نہ تھوکا یا علم نہ ہوا تھا مگر ابھی نشہ اتنا نہ تھا کہ عقل مختل ہو جاتی اور اس نے اس حالت میں طلاق دی تو طلاق واقع ہو گئی ، جیسی اور جتنی دیں ، اتنی اور ویسی واقع ہو گئیں۔ در مختار میں ہے: ”أو سكران ولو بنبيذ او حشيش او افیون او بنج زجراً به یفتی: تصحيح القدوری نعم لوزال عقله بالصداع او بمباح لم يقع ملخصا ) مگر جبکہ شوہر منکر طلاق ہے تو اس کا ثبوت دو مرد عادل یا ایک مرد دو عورت عدول کے بیان سے ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ رشوال المکرم ۱۳۹۶ھ الجواب صحیح والمجیب مصیب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم/ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی