بے اجازت زوجه سامان جہیز فروخت کرنا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: (1) زید اور زید کی بیوی میں گفتگو کے درمیان زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ میری تیری نہیں بنے گی اور میں تجھ کو نہیں رکھوں گا اور میں تجھ کو طلاق دیتا ہوں تو میرے قابل نہیں ہے۔ یہ الفاظ زید نے تین مرتبہ کہے اور کئی طرح کے عیب بھی لگائے اور زید نے اپنی بیوی کا کچھ زیور و جہیز کا سامان وغیرہ بھی فروخت کر دیا جو کہ لڑکی کے والدین نے دیا تھا اور زید کی زوجہ شاہدہ بیگم کا بھی کہنا ہے کہ میرے سامنے شوہر نے تین طلاقیں مجھ کو دیں اور زید کی زوجہ کے طلاق دینے کے چھ مہینے بعد مرا ہوا بچہ پیدا ہوا۔ طلاق دیتے وقت یہ سب لوگ موجود تھے : (۱) آمنہ بیگم۔ (۲) رسولن بانو ۔ (۳) شبیر خاں۔اور خودز وجہ شاہدہ بیگم۔ (۲) زوجہ کے والد کا کہنا ہے کہ میرے سامنے اس نے کئی مرتبہ کہا کہ میں اپنی بیوی کو چھٹی دے چکا ہوں، میرے قابل نہیں ہے نہ میں اس کو لاؤں، میرا اس کا کوئی واسطہ نہیں۔ یہ لفظ اس نے میرے علاوہ اور لوگوں سے بھی کہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب سے مطلع کریں کہ ایسی حالت میں طلاق مغلظہ ہوئی یا رجعی؟ عام فہم جواب عنایت فرمائیں۔ (نوٹ): اس واقعہ کو ہوئے چھ مہینے ہو چکے۔ اب اگر زوجہ کے والدین اپنی لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کرنا چاہیں تو کیا نکاح صحیح ہوسکتا ہے؟ المستفتی: زوجہ کے والد الطاف خاں محلہ غیاث پور بسلپور ضلع پیلی بھیت، یوپی معرفت: حافظ شاہ نور صاحب متولی پیش امام مسجد گونیا محمله، محله غیاث پور بسلپور ضلع پیلی بھیت، یوپی
الجواب: (۱) اگر یہ واقعہ ہے جو سوال میں تحریر ہوا تو زید کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور وہ زید کے لئے ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت ( کہ صورت مسئولہ میں وضع حمل تھی جو بچہ ہونے سے گزرگئی) دوسرے سے نکاح صحیح کرے پھر وہ بعد جماع جب طلاق دے دے یا اس کی موت خواہ کسی وجہ شرعی سے نکاح فسخ ہو جائے تو عورت اس دوسرے شوہر کی عدت گزار کر پہلے شوہر کو بہ نکاح جدید حلال ہوگی اور زید جو زیور کہ ملک زوجہ تھا اور جو سامان جہیز بے اجازت زوجہ بیچا اس کا تاوان ذمہ زید پر لازم ہے جبکہ زوجہ معاف نہ کرے اور گواہان مذکور اگر شرعی ہیں تو اُن کی شہادت شرعیہ سے طلاقیں ثابت ہوں گی۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ زید منکر ہو ورنہ شہادت کی حاجت نہیں ۔ اور طلاقیں ثابت ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) صورت مسئولہ میں ایک طلاق رجعی کا حکم ہے جبکہ ہر بار جداگانہ طلاق کی نیت نہ ہو بلکہ خبر دینا مقصود ہو اور یہی ظاہر ہے پھر اگر شوہر نے رجعت نہ کی اور تین حیض اگر عدت گزر چکی تو اس عورت کا دوسرے سے نکاح صحیح کرے اور اگر ہنوز کسی وجہ سے عدت قائم ہے تو جب تک عدت نہ گزر جائے دوسرے سے نکاح حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم حکم خبر اس صورت میں ہے جبکہ یہ دوسرا واقعہ پہلی صورت سے جدا ہو ورنہ حکم وہی ہے جو پہلے لکھا گیا کہ بے حلالہ زید کو اس کی بیوی حرام قطعی ہے اور اس طرح مشتبہ سوال سخت فریب دہی ہے جو حرام بد کام بدانجام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۸ / رجب المرجب ۱۴۰۵ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی