بالکل چھوڑا کے الفاظ لکھ کر دینے سے طلاق کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : ایک لڑکا اپنی سسرال میں اپنی بیوی کو لینے گیا۔ لڑکی کے ماں باپ نے نہیں بھیجا، لڑکی غصہ میں یہ پر چہ لکھ کر جو سائیکل اس کے پاس تھی وہ سائیکل سسرال کے جہیز کی تھی اس میں یہ پر چلکھ کران کا کر چلا آیا اور اپنے لڑکے کو جو کہ بیوی کے پاس تھا، اس کو کھلانے کے بہانے لے کر سیدھا اپنے گھر کا راستہ پکڑ لیا۔ اس پر چہ کا مضمون یہ تھا جو سائیکل میں انکا کر چلا آیا تھا: جناب شفیع الدین صاحب! السلام علیکم اب آپ تھوڑی سی میری غلطی کا مزہ چکھ لیں وہ یہ کہ میں نے شکیلہ کو بالکل چھوڑا اور آپ اپنا سامان لینے آئیں میں گھر جاتا ہوں۔ آپ کا جملہ سامان گھر سے باہر نکال کر پھینک دوں گا۔ آپ اپنا انتظام کرلیں میں آگے سامان وغیرہ کا کوئی حقدار نہیں رہا، اس لئے میں نے یہ پر چہ آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ کو معلوم ہو جائے اور میں اب بہت اجڈی پر اتر آیا ہوں ۔ اور اب میرا شکیلہ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ سب کو میر اسلام عرض۔ بس اتنا ہی کافی ہے۔ لہذا مؤدبانہ عرض ہے کہ اس بارے میں جواب سے آگاہ فرما یا جائے اس لڑکی کی طلاق ہوئی یا نہیں؟ عین نوازش ہوگی ۔ فقط والسلام المستفتى : . مولانا حبیب احمد موضع پہیلیا، پوسٹ خاص، وایہ امر یا ضلع پیلی بھیت
الجواب: صورت مسئولہ میں ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی۔ عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو پر ہیز گار آدمیوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی، اسے اپنے نکاح میں لیا۔ بشرطیکہ پہلے دو طلاقیں نہ دی ہوں ورنہ رجعت نہ ہو سکے گی اور بے حلالہ بیوی شوہر کو حلال نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ صفر المظفر ۱۴۰۴ھ/ در سفر