مشروط طلاق: مقررہ وقت پر نہ پہنچنے کی صورت میں وقوع طلاق کا حکم
چنانچہ زید نے زینب سے تنہائی میں گفتگو کی مگر زینب زید کے ساتھ جانے کو اور اس کے گھر میں رہنے کو تیار نہ ہو سکی۔ بعدہ تمام حاضرین اور زینب کے والد اور رشتہ داروں نے زید سے طلاق کا مطالبہ کیا، اس پر زید نے کہا کہ ہم بدھ کے دن آکر طلاق دے جائیں گے ۔ مگر حاضرین کو اُس کے اِس کہنے کا اعتبار نہ آیا اور اُس سے کہا کہ تم یوں کہو کہ اگر میں بدھ کے دن نہیں آیا تو میری بیوی زینب کو طلاق ہے۔ چنانچہ زید نے یہ الفاظ کہے کہ اگر ہم بدھ کے دن ۱۰ بجے تک نہیں آئے تو زینب کو طلاق ہے۔ اس پر حاضرین نے مکر مکرر کہلوایا تو زید نے کہا کہ ہاں ہاں۔ بہر حال زید بدھ کو مقررہ وقت تک نہیں آسکا بلکہ اب تک نہیں آسکا ہے جب کہ اس واقعہ کو ۹ - ۱۰ / مہینے گزر چکے ہیں۔ بلکہ زید نے وہ الفاظ کہنے کے تقریباً دو ماہ بعد ایک خط بشکل نوٹس بھیجا اور اس میں لکھا کہ میری بیوی تقریباً ساڑھے تین ہزار روپیہ کا زیور اور کپڑے لے کر اپنے باپ کے ساتھ چلی گئی ہے اس کو پندرہ دن کے اندر اندر میرے یہاں بھیج دیا جائے ورنہ قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جبکہ بحلف شرعی اور حقیقت یہ کہ زید کا یہ تمام لکھنا بالکل جھوٹ ہے اور بحلف شرعی اور سچ یہ ہے کہ نہ تو زینب کے نکاح ہی میں کوئی مال کی چیز تھی اور نہ ہی تین سال کے عرصہ میں زینب پر اتنا مال ہو سکا تھا بلکہ زینب بغیر مال اور کپڑوں کے اپنے باپ کے ساتھ آئی اور جبکہ زینب پر کوئی چیز تھی ہی نہیں تو کسی چیز کے ساتھ لانے کا سوال ہی نہیں ہے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زینب مطلقہ ہوئی یا نہیں؟ اور زینب حاملہ نہیں ہے اور زینب کو اپنے والدین کے یہاں رُکے ہوئے تقریبا ۹-۱۰ر ماہ ہو چکے ہیں ۔ فقط والسلام!
الجواب: سائل : ولی محمد و غلام نبی ، موضع بھنگو ان پور ضلع بریلی شریف اگر واقعہ مندرجہ صحیح ہے تو زینب پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی۔ زید نے اگر رجعت نہ کی ہو تو زینب عدت کے بعد نکاح سے باہر ہو گئی ، جس سے چاہے نکاح کرلے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی