شوہر اگر بیوی کو نہ لے جائے تو کیا جبر طلاق لی جاسکتی ہے؟
شوہر اگر بیوی کو نہ لے جائے تو کیا جبر طلاق لی جاسکتی ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : میری لڑکی کی شادی کئے ہوئے ایک سال چار دن ہو رہے ہیں۔ لڑکی شادی کے بعد اپنے سسرال گئی پھر چار دن کے بعد میکے چلی آئی جس وقت میں اپنی لڑکی کی رخصتی کے لئے لڑکی کے سسرال گیا، لڑکے والوں نے بڑی خوشی خوشی لڑکی کو رخصت کر دیا اور میں بڑی خوشی خوشی لڑکی کو لے کر گھر چلا آیا۔ اس وقت ہم لوگوں میں کوئی ایسی بات نہ ہوئی بلکہ لڑکے کے والد نے کہا ہم دو مہینہ کے بعد لڑ کی کی رخصتی کروانے کو آئیں گے ۔ مگر آج ایک سال کا زمانہ گزر گیا ، نہ لڑکی کا شوہر آیا نہ لڑکے کا والد، میں اپنی بالغ لڑکی کب تک اپنے پاس رکھوں ( اس بارے میں آپ کیا فرمارہے ہیں ) یہ خط بھیجنے کا پہلا اتفاق ہے۔ اگر کسی قسم کی غلطی ہو تو معاف فرمادیجئے گا۔ آپ کا نیازمند : شوکت علی
الجواب: شوہر سے جس صورت بنے ، طلاق لی جائے۔ خواہ مہر معاف کر کے ، خواہ کچھ دے کر ، خواہ حاکم کے ذریعہ جبراً زبانی طلاق کہلوالیں۔ جب تک طلاق ہو کر عدت نہ گزرے، دوسرے سے نکاح حلال نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله یکم جمادی الآخر ۱۴۰۴ھ