حالت حیض و حمل میں طلاق دینا کیسا ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید نے اپنی بیوی ہندہ کو تین طلاقیں دے دیں جس کے چند گواہ ہیں ۔ ہندہ کے والد نے جب زید سے معلوم کیا کہ آپ نے میری لڑکی ہندہ کو طلاق دے دی ہے؟ تب زید نے اقرار کیا۔ ہندہ کے والد زید کو مفتی صاحب کے پاس لے گئے ، مفتی صاحب نے خود بھی زید سے معلوم فرمایا تو زید نے مفتی صاحب کے سامنے بھی اقرار کیا کہ میں نے اپنی بیوی ہندہ کو ۳ر دفعہ طلاق دے دی۔ لہذا ایسی صورت میں شریعت کا جو حکم ہو، صادر فرمائیے ۔ (نوٹ): رات کو ہندہ نے اپنے شوہر زید سے قربت کی صبح کو زید نے ہندہ کو طلاق دے دی تو یہ طلاق ہو جائے گی ؟ عورتوں کے ایام مخصوصہ میں اگر شوہر طلاق دے دے تو طلاق ہو جائے گی ؟ المستفتی: علی حسن علی ،محلہ کڑہ پختہ کوچه بنگلہ، آنولہ
الجواب: تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور بیوی شوہر پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ عورت اگر اپنے خاوند کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو عدت کے بعد دوسرے صحیح النکاح شوہر سے جماع کے بعد طلاق لے کر عدت گزارے پھر پہلے خاوند سے نکاح کرلے۔ جس طہر میں جماع کیا، اس میں طلاق دینا منع تھا۔ اگر چہ طلاق ہو گئی۔ یونہی حیض و حمل میں طلاق دینا منع ہے ،مگر طلاق دے گا تو ہو جائے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۷ ذی قعدہ ۱۴۰۲ھ