طلاق رجعی میں عدت گزرجانے کے بعد نکاح جدید بمہر جدید کا حکم
طلاق رجعی میں عدت گزرجانے کے بعد نکاح جدید بمہر جدید کر سکتا ہے! اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ: میرے اور میری بیوی کے درمیان کچھ دنوں تک نا اتفاقی رہی۔ آخر میں ایک روز غصہ میں تھا اور غصے کی حالت میں کچھ لوگوں کے قول کے مطابق ایک طلاق دی، اس وقت میری عمر ۷۵ سال کی ہے اور میرے دماغ میں غصہ کی تیزی رہتی ہے۔ اس غصہ کی حالت میں میں نے میری عورت کو باحتیاط ایک دفعہ طلاق دی۔ اب میں اور میری عورت دونوں میں محبت کی بات چیت ہو گئی ہے۔ تو اس حالت میں مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟ علمائے دین اس مسئلہ کا جواب جلد سے دے دیں اور میں نے کسی طرح سے لکھ کر یا دستخط سے کچھ نہیں کیا اس بات کو عرصہ ایک سال کا ہوا ہے۔ المستفتی: چاندمحمد ولد نظر محمد بمقام گوہندگردہ،ضلع اجمیر شریف
الجواب: صورت مسئولہ میں ایک طلاق رجعی ہو گئی ۔ عدت کے اندر رجعت کا اختیار تھا۔ اگر قوال فعلا کسی طرح ہنوز رجعت نہ کی کہ عدت گزرگئی تو برضائے زن بہ مہر جدید نکاح کر سکتے ہیں۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ یکم جمادی الآخر ۱۴۰۴ھ