شوہر طلاق کا منکر ہو تو گواہان شرعی کی شہادت شرعیہ کے بغیر طلاق ثابت نہ ہوگی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے اپنی ہندہ کو اس کے رو برو طلاق دی۔ اس جگہ ماسواہندہ کے دو عورتیں اور بھی موجود تھیں جنہوں نے اپنے کانوں سے زید کے الفاظ سنے۔ زید کے الفاظ طلاق یہ ہیں: ”طلاق ، گھر سے نکل جاؤ“۔ طلاق کا لفظ زید نے متعدد بار استعمال کیا ہے۔ جب بات طشت از بام ہوئی تو لوگوں کے استفسار پر زید نے بیان کیا کہ میں نے تو صرف دو ہی بار لفظ طلاق کا استعمال کیا ہے۔ زید کی بیوی ہندہ خاموش ہے۔ ان عورتوں میں سے جو اس وقت وہاں پر موجود تھیں ان میں سے ایک کا بیان ہے کہ اس نے دوہی بار لفظ طلاق کا استعمال کیا اور دوسری عورت کا بیان ہے کہ زید نے تین بار لفظ طلاق کا استعمال کیا۔ تو اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ طلاق حاصل ہوئی یا نہیں ؟ اگر حاصل ہوئی تو کس قسم کی ؟ بینوا توجروا المستفتى : محمد شمش العالم رضوی قادری / ۱۵/ دسمبر ۱۹۸۳ء
الجواب: فی الواقع اگر زید نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو اس پر اس کی بیوی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے جائز شوہر سے جماع کے بعد طلاق لے کر عدت گزارے۔ پھر زید کو اس سے نکاح اس کی رضا سے حلال ہوگا ۔ مگر زید جبکہ تین طلاقوں کا منکر ہے تو گواہان شرعی کی شہادت شرعیہ کے بغیر تین طلاقیں ثابت نہ ہوں گی۔ البتہ عورت کو اس صورت پر لازم ہے کہ وہ زید کو خود پر قابو نہ دے اور اس سے دور رہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۳۰ / ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ