رمضان المبارک کا چاند انتیس کا ہونے پر تین طلاق معلق کرنے کا حکم
سوال
اگر چاند انتیس کا ہو گیا تو تیرے اور پر تین طلاق سے کیا طلاق واقع ہوگی؟ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام بابت مسئلہ ذیل میں کہ : زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ کا چاند انتیس کو ہو گیا تو تیرے اوپر تین طلاقیں ہیں۔ لہذا حکم بیان فرمائیں کہ زید کی بیوی پر طلاق ہوئی یا نہیں ؟ بینوا توجروا لمستانی محمد مامون رضارضوی نغفر له ساکن حشمت نگر، پیلی بھیت (یوپی)
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: یہاں ۲۹ کو رویت نہ ہوئی۔ لہذا طلاقیں نہ پڑیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵ / رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ صح الجواب ! وہاں رویت ہوئی تو تین طلاقیں واقع ہونے کا حکم ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۷ · صفحہ ۱۱
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بغیر طلاق نکاح ثانی کرنا کیسا؟
باب: کتاب الطلاق
اگر یہ رنڈی ہے تو میں نے طلاق دی ، طلاق دی ، طلاق دی“ سے طلاق ہوگی یا نہیں؟
باب: کتاب الطلاق
کیا حالت جنون میں طلاق دینے سے طلاق ہو جائے گی ؟
باب: کتاب الطلاق
شوہر طلاق کا منکر ہو تو گواہان شرعی کی شہادت شرعیہ کے بغیر طلاق ثابت نہ ہوگی
باب: کتاب الطلاق
امرود نہ کھانے کی شرط پر معلق طلاق اور طلاق مغلظہ کا حکم
باب: کتاب الطلاق