کیا حالت جنون میں طلاق دینے سے طلاق ہو جائے گی ؟
کیا حالت جنون میں طلاق دینے سے طلاق ہو جائے گی ؟ علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ: زید اور ہندہ کے درمیان آپس میں جھگڑا ہوا جو مندرجہ ذیل ہے۔ جھگڑے کے درمیان بہت باتیں ہوئی زید کو جھگڑے کی ابتدا یاد ہے۔ جھگڑے کے درمیان ہندہ سے کتنی بات ہوئی، کس طرح ہوئی، زید کو کچھ بھی پتہ نہیں ہے۔ زید بد حواسی کے عالم میں گھر سے باہر نکلا۔ کچھ دیر بعد پھر گھر آیا اور ہندہ سے پھر جھگڑنے لگا اس کے بعد اس کی بچی صاحبہ وہاں آکر رونے لگی۔ زید چچی کے رونے سے اپنی صحیح حالت میں آگیا اور چاچی سے پوچھنے لگا کہ تم کیوں رونے لگی ؟ زید کی بچی نے کہا کہ تم نے اپنی بیوی کو دو بار ” تین طلاق ، تین طلاق بول دیا۔ اس پر زید نے کہا میں نے طلاق دے دی مجھے کچھ بھی معلوم نہیں ہے کہ ہم نے کب طلاق دی، کتنی بار دی، اور نا ہی ہمارا ارادہ تھا کہ ہم ہندہ کو طلاق دیں گے۔ زید کے والد کا کہنا ہے کہ زید جس وقت اپنی بیوی سے جھگڑا کر رہا تھا اور طلاق بول رہا تھا، اس کے بعد وہ وہاں پہنچ گئے تھے، اُن کا کہنا ہے کہ جھگڑے کے درمیان وہ بالکل پاگل جیسا لگ رہا تھا ، وہ کسے کیا بول رہا تھا، اس کی حالت دماغی خراب تھی۔ جھگڑے کے درمیان اس جگہ اپنے والد سے بھی لڑ پڑا مگر بعد میں ہوش آنے پر اسے یاد دلایا گیا کہ تم نے طلاق کے ساتھ ساتھ اپنے والد سے بھی جھگڑا کر لیا ہے۔ زیدان سبھی باتوں سے انکار کرتا ہے۔ زید کے والد کا کہنا ہے کہ اکثر جھگڑے کے درمیان اس کی حالت خراب ہو جاتی ہے اور اناپ شناپ بک دیتا ہے بعد میں جب وہ صحیح حالت میں آتا ہے تو اسے وہ باتیں یاد دلائی جاتی ہیں کہ تم نے اس آدمی سے
اس طرح کا سلوک کیا ہے؟ تو وہ انکار کرتا ہے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ زید طلاق کے حادثہ سے انکار کرتا ہے اور ہندہ کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ لہذا اس میں زید اور ہندہ کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ الجواب: مستفتی: محمد حنیف انصاری صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور بیوی اپنے شوہر پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ بعد جماع جب طلاق دے دے یا مرجائے یا عیاذ باللہ مرتد ہو جائے تو پھر عدت گزار کر چاہے تو پہلے سے نکاح کرلے۔ البتہ اگر خوب تحقیق ہے کہ زید کی عقل اس وقت مختل تھی جب اس نے طلاق دی اور یہ بنائی ہوئی بات نہیں ہے تو طلاق واقع ہونے کا حکم نہ ہوگا۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی