امرود نہ کھانے کی شرط پر معلق طلاق اور طلاق مغلظہ کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: زید نے اپنی بیوی ہندہ کو کہا کہ تم امرو مت کھاؤ اس لئے کہ بچہ کو سردی ہو جاتی ہے اور بچہ بیمار ہوجاتا ہے۔ ہندہ نے جواب دیا کہ میں امرود کھاؤں گی ، کھاؤں گی ، کھاؤں گی۔ اس پر زید نے غصہ میں کہا کہ تم خوب امرود کھاؤ، اگر نہیں کھاؤ گی تو تم کو طلاق ۔ ہندہ نے یہ سمجھا کہ اگر امرود کھاؤ گی تو تم کو طلاق“ کہا گیا ۔ اس لئے اس روز ہندہ نے امرود نہیں کھایا۔ دوسرے دن جب زید نے حلفیہ اپنا بیان دیا کہ میں نے یہ کہا ہے کہ اگر تم امرود نہیں کھاؤ گی تو تم کو طلاق اس کے بعد ہندہ نے امرود کھا لیا۔ واضح ہو کہ اس سے پہلے ہندہ کو دو طلاق رجعی دے چکا ہے۔ لہذا گزارش ہے کہ شرعی فیصلہ سے آگاہ فرما ئیں!
المستفتی: محمد شبیر احمد الجواب: صورت مسئولہ میں ایک طلاق واقع ہوگی اور اگر زید دو طلاق رجعی دے چکا ہے تو تینوں واقع ہوکر زید کی بیوی اس پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے بھی حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے جائز شوہر سے جماع کے بعد طلاق لے کر عدت گزارے۔ پھر چاہے تو پہلے شوہر سے نکاح کر لے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۸ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ