شوہر غائب ہو جائے تو عورت کیا کرے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید کا نکاح ہندہ کے ساتھ ہوا، با قاعدہ رخصت ہوئی۔ کچھ عرصہ کے بعد زید لا پتہ ہو گیا، تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، ہر طریقے پر تلاش کیا گیا۔ تلاش کرتے تقریباً ساڑھے پانچ سال ہو گئے۔ مگر زید کا آج تک کہیں پتہ نہیں چلا۔ ہندہ کی گز روغیرہ بہت مشکل سے ہوتی ہے۔ اس کے احباب ہندہ کا دوسرا نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ اس دوسرے نکاح کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ لمستفتی: عبدالباقی آنولہ کٹرا، پخت کریخہ ، بنگلا
الجواب: گمشدہ کی بیوی ہمارے مذہب مہذب حنفی میں اسی کی بیوی رہے گی جب تک کہ گمشدہ کی طرف سے اسے طلاق کی خبر یا ایک مدت مقرر گزرنے کے بعد اس کی موت کا ظن غالب نہ ہو جائے اور وہ مدت مقررہ اس کی عمر سے ستر سال گزر جانا ہے۔ یعنی اگر وہ تیس برس کی عمر میں غائب ہوا تو حنفیہ قدست اسرار ہم الذکیہ کے نزدیک اس کی بیوی چالیس سال تک انتظار کرے۔ جب یہ مدت انتظار گزرجائے اور شوہر کا کوئی پتہ اس مدت میں نہ لگے تو اسے دوسرا نکاح حلال ہوگا۔ (1) حدیث میں ہے: امرأة المفقودامرأته حتى يأتيه البيان (1) نصب الرأية ، كتاب المفقود، ج ۳، ص ۴۷۳، مطبع دار الحدیث، مصر بلا ضرورت شرعیہ اس مدت کے پورے ہوئے بغیر دوسرا نکاح بلکہ عزم نکاح حرام، بدکام بد انجام ہے۔ قال اللہ تعالی : وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاء - الآية } () وقال تعالى : وَلا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَبُ أَجَلَهُ الآية } () وقال الصاوی علیہ الرحمۃة تحت الآية المارة آلفا نقلا عن الجوهرة: ’مراتب القصد خمس هاجس ذكروا، فخاطر فحديث النفس فاستمعا، يليه هم ،، فعزم كلها رفعت سوى الاخير ففيه الاخذقد وقعا (۳) الہذا عورت کو حکم ہے کہ کسر شہوت کے لئے روزے رکھے اور گھر میں بیٹھ کر یا پردہ و پرہیز گاری کے ساتھ باہر نکل کر ہنر دستی کے ذریعہ کسب معیشت کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور واقعی بے شوہر کسی طرح گزر ممکن نہ ہو تو مذہب امام مالک پر عمل کی اجازت ہے۔ ان کا مذہب یہ ہے کہ عورت حاکم شرع کے یہاں مستغیثہ ہو۔ وہ بعد ثبوت چار سال مدت تلاش شوہر کے لئے مقرر فرمائے گا اس مدت میں ہر ممکن کوشش اسے پانے کی کی جائے۔ پھر جب نہ ملے تو حاکم شرع کے پاس دوبارہ آئے ۔ اب وہ اس کی موت کا حکم کرے گا۔ اور عورت کو چار ماہ دس دن عدت بیٹھنے کا حکم دے گا۔ جس کے بعد عورت مختار ہوگی کہ جس سے نکاح جائز ہو، کرلے۔ جہاں حاکم شرع نہ ہو اس جگہ وہاں کا سچا عالم سنی صحیح العقیدہ جوعلم فقہ اس جگہ کے تمام علماء سے زائد رکھتا ہو، حاکم شرع کے قائم مقام ہے۔ حدیقہ ندیہ میں فتاوی عتابیہ سے ہے: اذا خلى الزمان من سلطان ذى كفاية فالامور مؤكلة الى العلماء ويلزم الامة الرجوع اليهم ويصيرون ولاة - ملتقطا (۱)