لفظ چھٹی دی تین بار کہنے سے طلاق کے وقوع اور نیت کا اعتبار
میں نے چھٹی دی، چھٹی دی، چھٹی دی“ سے کتنی اور کونسی طلاق ہوگی؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: زید اور اس کے سسر بکر کے درمیان کچھ منازعہ بات چیت چل رہی تھی ۔ درمیان گفتگو بکر نے زید سے کہا کہ ایسا ہے کہ میں اپنی لڑکی کو روک لیتا ہوں تم اپنے بچے اپنے ساتھ لے جاؤ اس پر زید نے کہا تو میں اس کو چھوڑ دوں؟ بکر نے کہا کہ ہاں اس کو تم چھوڑ دو۔ لہذا زید نے فوراً یوں کہا کہ میں نے چھٹی دی ، چھٹی دی ، چھٹی دی۔ اور چلا آیا حالانکہ میرا ( زید ) ایسا ارادہ دلی کوئی نہیں تھا زید سے جب لوگوں نے پوچھا کہ اس لفظ چھٹی سے تمہارا مقصد طلاق تھا یا نہیں ؟ تو زید نے قسمیہ طلاق کی نیت کا انکار کیا۔ صورت مسئولہ میں حکم شرعی بیان فرمائیں۔ عین عنایت ہوگی ! لمستني : جاویڈیسٹین ولد متے ساکن رام نگر ، کھٹیمہ ضلع نینی تال
الجواب: چھٹی دی اگر اس جگہ طلاق کے معنی میں بیشتر مستعمل ہوتا ہے تو صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور زید پر اس کی بیوی ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کر کے جماع کے بعد طلاق لے کر عدت گزارے ۔ پھر زید کا اس سے نکاح حلال ہوگا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۵/شعبان المعظم ۱۴۰۶ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی