تجدید ایمان ونکاح اور ایک ہی عورت سے بار بار نکاح کرنے کا حکم
کے زید کی بیوی کے سر پر چوری کا الزام لگایا اس وجہ سے اپنے والد کو غلط الفاظ بول گیا۔ اس کے بعد زید بریلی شریف استفتا لکھا تو جواب آیا کہ ظاہر میں کلام کفر نہیں ہوا مگر احتیاطاً تو بہ وتجدید ایمان ونکاح کرے تو بہتر ہے۔ زید پھر تیسری مرتبہ نکاح کیا۔ کیا یہ نکاح صحیح ہوا کہ نہیں ؟ اور شریعت میں پہلی بیوی سے کئی مرتبہ نکاح کر سکتا ہے؟ شریعت میں کوئی قید بھی ہے؟ حکم شرعی بیان فرمائیں۔ فقط والسلام المستفنى : يار محمد قادری مدرسہ صدرالعلوم ، بڑگاؤں، گونڈہ
الجواب: (1) صورت مسئولہ میں طلاق نہیں ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زوجیت سے نہ نکلی کہ ہنوز لعان شرعی نہ ہوا مگر زید کو بیوی سے ایسا کہنا جائز نہ تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نکاح صحیح ہوا جبکہ بہ طریق شرعی ہوا اور جب نکاح فسخ ہو جائے تب تو بیوی سے نکاح اس کی رضا سے مہر جدید کے ساتھ کر سکتا ہے۔ اس میں کسی وقت مخصوص کی قید نہیں ۔ ہاں مغلظہ بائنہ سے بے حلالہ نکاح کی اجازت نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی