شوہر کے لفظ 'آزاد کیا' کہنے سے طلاق بائن کا وقوع اور عدت کے بعد دوسرے نکاح کا حکم
آپ کو مجبوراً دینا پڑے گا۔ لیکن وہ پیسہ مجھے نہیں مل پائے گا۔ ایسی صورت میں طلاق نامہ لکھنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ میں نے کہا کہ اگر کسی نے طلاق کا تحریری ثبوت نہ ہونے کی بنا پر مداخلت کی تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ انہوں نے جواب دیا اس کا ذمہ دار میں ہوں ۔ کوئی مداخلت نہ کرے گا۔ میں نے کہا تو کیا آپ خدا کو حاضر و ناظر جان کر میری بہن قمر النساء کو آزاد کر رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر آپ کی بہن قمر النساء کو آزاد کرتا ہوں۔ اب آپ اس کا دوسرا انتظام کر سکتے ہیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ ایسی صورت میں میری بہن کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا میں اپنی بہن کا دوسرا عقد کر سکتا ہوں؟ نیز اس سلسلے میں میں نے سرکاری کچہری کی طرف رجوع کیا۔ وہاں سے دو سال پہلے میری بہن کی طلاق ہوگئی ۔ میرے احباب نے کہا کہ آپ اب بہن کا دوسرا انتظام کر دیں، میں نے کہا کہ میں شرعی معاملات میں سرکاری کچہری کا کچھ کم اعتماد کرتا ہوں۔ میں شرعی عدالت کی طرف رجوع کروں گا۔ اس سلسلہ میں اب سارے معاملات آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ برائے کرم فرصت اولین میں حکم مرحمت فرما کر مشکور فرمائیں تا کہ میں بہن کا دوسرا عقد کرسکوں ۔ مذکورہ بالا واقعات ۱۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء کے ہیں۔ جو کہ میرے بہنوئی اور میرے درمیان ہوئے۔ امید ہے کہ جلد از جلد جواب مرحمت فرمائیں گے۔ فقط لمستفتی : سید تراب علی ولد سردار علی ساکن بڑا بازار، اودے پور، (راجستھان)
الجواب: ۱۲ / اگست ۱۹۷۸ء صورت مسئولہ میں فی الواقع اگر آپ کے بہنوئی نے فقرہ مذکورہ ”میں نے اسے آزاد کیا کہا تو آپ کی بہن پر ایک طلاق بائن واقع ہوئی۔ عدت اگر پوری ہوگئی تو وہ آزاد ہے ۔ جس سے نکاح جائز ہو، کرسکتی ہے۔ یہ جملہ کہ میں شرعی معاملات میں سرکاری کچہری پر کچھ کم اعتماد کرتا ہوں، نامناسب ہے۔ شرعی معاملات میں کچہری پر کچھ بھی اعتماد نہیں۔ کم زیادہ کا کیا سوال؟ اور کچہری کی آزادی کوئی چیز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۹ ر رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ صح الجواب واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ