غصے کی حالت میں بیوی کو دو بار طلاق دینے کا حکم اور اس کی شرعی حیثیت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: اپنی بیوی کو بد تہذیب گفتگو پر مشتعل ہو کر غصہ میں طلاق کے الفاظ دو مرتبہ میرے منہ سے نکل گئے جو کہ میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا جس کا فوری طور پر مجھ کو احساس بھی ہوا کہ یہ میں کیا کہہ گیا۔ بعد از مدت ایک عزیز اور عورت جو کہ موجود تھی ، انہوں نے مجھ سے کہا طلاق نہیں ہوئی چونکہ تم نے تین بار نہیں کہا ہے، میں پورے طور پر آپ کی طرف متوجہ تھی۔ لہذا ایسی صورت میں میں چاہتا ہوں قرآن و سنت کی روشنی میں طلاق ہو گئی یا نہیں؟ اور ہم پر کوئی حکم شرعی تو عائد نہیں ہوتا ؟ اور ہوتا ہے تو وہ کیا ہے؟ اور اس پر عمل کرنے کا ہمارے لئے آسان طریقہ کیا ہوسکتا ہے؟ مفصل تحریر فرمائیں ، ہم دونوں آپس میں متفق ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ (نوٹ): سائل نے بیان دیا کہ میں نے دو مرتبہ اپنی بیوی سے کہا کہ میں طلاق دیتا ہوں، اور بیوی سے گفتگو ہورہی تھی ، وہ سامنے موجود تھی ۔ فقط ! المستفتی: عبدالستارخان
الجواب: اگر واقعہ سچا ہے تو صورت مسئلہ میں طلاق رجعی کا حکم ہے۔ عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے جس کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ دو مرد عادل کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی، اسے اپنے نکاح میں واپس لیا۔ اور یہ حکم جب ہے کہ پہلے ایک طلاق نہ دے چکا ہو ورنہ رجعت تو کیا ہے حلالہ عورت حلال نہ ہوگی۔ مفتی کا کام اظہار حکم الہی ہے، بس ، جھوٹ بولنے سے حکم بدل نہ جائیگا، حرام حرام ہی رہے گا ، حلال نہ ہو جائیگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم صبح الجواب واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی