جنون یا کوئی عیب فسخ نکاح کا سبب نہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ: ہندہ کا نکاح ایک باہوش عاقل سے ہوا اور منکوحہ ہندہ کے دو بچے بھی انہی کے نسب سے ہوئے تھے جو فوت ہو گئے اور اس وقت ہندہ کے شوہر کو پاگل ہوئے بارہ برس کا زمانہ گزر رہا ہے۔ اس مدت میں ہندو اپنے میکے میں رہتی تھی اور آج بھی وہیں رو رہی ہے۔ اب ہندہ یہ چاہتی ہے کہ میں دوسری شادی کرلوں تو کیا ہندہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے؟ جبکہ اس کا شوہر بارہ سال سے پاگل ہے۔ فقط والسلام لمستفتی عبدالستار، رانی پور ڈاکخانہ ہردوئی ضلع سلطان پور
الجواب: ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک جنون یا کوئی عیب فسخ نکاح کا سبب نہیں۔ در مختار و ہند یہ میں ہے: اذا كان بالزوج جنون او برص اور جذام فلا خيار لها كذا فی الکافی (1) (1) الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، باب الثاني عشر فى العنين، ج ۱، ص ۵۷۹، دار الفکر بیروت مگر جب کہ سچی کچی ضرورت شرعیہ تحقیق ہو یعنی اس مجنون کے ساتھ گزر بسر کسی طرح ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں امام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب پر عمل ممکن ہے۔ ان کا مذہب یہ ہے کہ عورت حاکم شرع کے حضور حاضر ہو، اسے جب یہ تحقیق ہوگا کہ واقعی شوہر کا جنون مطبق ہے یعنی مدتہائے دراز گزر گئیں مگر اسے افاقہ نہ ہوا تو وہ فوراً تفریق کر دیگا اور یہ تفریق طلاق بائن قرار پائے گی ۔ اور اگر اسے یہ تحقیق ہو کہ اس کا جنون لازم ممتد نہیں ہے بلکہ درمیان میں اچھا بھی ہو جاتا ہے تو وہ ایک سال مدت علاج مقرر کرے گا۔ اگر علاج سے جنون جاتا رہا تو خیر ورنہ تفریق کرے گا اور ہندہ مختار ہوگی۔ ہندیہ میں ہے: ”و قال محمد ان كان الجنون حادثا يؤجله سنة كالعنة ثم يخير المرأة بعد الحول اذا لم يبر أوان كان مطبقا فهو كالجب و به ناخذ_کذا فی الحاوی (1) اور جہاں حاکم شرع نہ ہو، وہاں اس جگہ کا سب سے بڑا عالم سنی صحیح العقیدہ مرجع فتویٰ حاکم کے قائم مقام ہے۔ حدیقہ ندیہ میں ہے: "اذا خلى الزمان من سلطان ذى كفاية فالامور مؤكلة الى العلماء ويلزم الامة الرجوع اليهم ويصيرون ولاة - الخ ( ) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۳۰ صفر المظفر ۱۳۹۹ھ