نکاح سے آزاد کرنے کے الفاظ کے ذریعے طلاق کا حکم
۱۴ رصفر المظفر ۱۴۰۴ھ مغلسرائے اسٹیشن ”نکاح سے آزاد کرتا ہوں عر فا صریح طلاق کے قائم مقام ہے! قبلہ جناب اعلیٰ حضرت، بریلی! مسئلہ خاوند اور بیوی کا ہے۔ خاوند پردیس جانے کو تھا۔ خاوند نے بیوی کو میکے جانا منع کر دیا تھا۔ خاوند کی میکے والوں سے ناراضگی چل رہی تھی۔ خاوند دوماہ کے بعد پردیس سے اپنے گھر آیا، بیماری کی حالت میں بیوی کو گھر نہ پایا، دورا پڑا، بیماری میں دل و دماغ پر اور اس بے حواسی میں لفظ لکھ کر بھیجے میکے والوں کو ۔ ایسی حالت میں آزادی بیوی کی ہوئی یا نہ ہوئی ؟ وہ لفظ نیچے درج ہیں : جناب محمد حسین صاحب ! آداب۔ میں تو نہیں چاہتا تھا لیکن آپ کو تکلیف ہوئی ہوگی ، میں اس کی معافی چاہتا ہوں ۔ جب آخر ہو جائے تو میں بھی کیا کروں اس لئے آپ کو یہ معلوم ہو کہ فرزانہ بیگم بنت محمدحسین صاحب آپ کی لڑکی کو میں اپنے نکاح سے آزاد کرتا ہوں ۔ آپ کی فرزانہ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے آپ کی خوشی کے مطابق میں آپ کی بیٹی کو طلاق دیتا ہوں کیوں کہ آپ سے کہا تھا جو بیوی سمجھانے کو نہ مانے اسے مار کر سمجھایا جائے اور پھر بھی نہ مانے تو اس کو طلاق دے دے میں ہر طرح سے سمجھا چکا اس لئے اب میں آپ کی بیٹی کو طلاق دیتا ہوں ! جاوید علی معرفت عبدالنبی موضع مبتوش تحصیل ندر پور ضلع نینی تال ، ڈاک خانہ پریم نگر
الجواب: ”نکاح سے آزاد کرتا ہوں عر فا صریح طلاق کے قائم مقام ہے اور صریح صریح کو لاحق ہوتی ہے لمافی الدر المختار الہذا صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں۔ اور عورت اس مرد پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ بعد جماع جب طلاق دے دے تو یہ عدت کر کے چاہے تو پہلے سے نکاح کرلے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح۔ واللہ تعالی اعلم ۲۵/ذوالحجہ ۱۴۰۰ھ بہاء المصطفیٰ قادری