نابالغہ کا نکاح چچا نے کیا اب وہ طلاق یا خلاصی چاہتی ہے
نابالغہ کا نکاح چچانے کیا کچھ دن شوہر کے ساتھ رہ کر اب جانا نہیں چاہتی ہے، کیا حکم ہے؟ علمائے دین و مفتیان شرع اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ : عبدالحق اور عبدالحمید دو بھائی تھے، عبدالحق کا انتقال ہو گیا۔ عبدالحق سے دولڑکیاں تھیں۔ عبدالحق کی بیوی سے عبد الحمید نے نکاح کر لیا اور ولی بن کر دونوں لڑکیوں کی شادی کر دی۔ چھوٹی لڑکی کی عمر سات ہی سال کے اندر نکاح کر دیا تھا۔ لڑکی اپنے سسرال دو مرتبہ گئی۔ جھگڑ ا فساد کر کے میکے چلی آئی۔ والدہ اور چچا کے ساتھ رہتی ہے اُس کے سسرال والے اور اس کا شوہر آیا اور پنچایت کو اکٹھا کیا پنچایت ہوئی، پنچان نے شوہر کو اختیار دیا کہ اس کو پکڑو اور اپنے گھر لے جاؤ۔ شوہر صاحب نے بیوی سے بات چیت کی ،عورت راضی نہ ہوئی تب شوہر صاحب نے پہنچان کے روبرو بال پکڑ کر گھسیٹا اور سینے پر سوار ہو گئے، پنچوں نے چھوڑ دیا۔ اب لڑکی کی عمر ۱۴ سال کی ہے، کنٹرول سے باہر ہونا چاہتی ہے۔ کوئی سبیل عطا فرمائیے جس سے مجھ کو نجات مل جائے ورنہ عزت جانے کا امکان ہے، وہ طلاق نہیں دے رہا ہے حضور والا مجھ کو کسی راستہ سے نکال کر میری عزت بیچاد بیجئے ، عین مہربانی ہوگی۔ میرا داماد صحبت سے بھی
کمزور ہے پنچان نے کہا کہ تم ڈاکٹری کراؤ، نہ تو ڈاکٹری کراتا ہے اور نہ طلاق ہی دیتا ہے۔ المستفتی: عبدالحميد رود ولیہ ڈاکخانہ بھمبو، ضلع گونڈہ الجواب: اس نابالغہ کا نکاح اگر اس کے چچانے کفو سے کیا اور مہر میں غبن فاحش نہ ہوا تو نکاح صحیح ہو گیا ۔ مگر بعد بلوغ اس لڑکی کو فسخ کا اختیار حاصل ہوا لہذا اگر بالغ ہوتے ہی نکاح کی خبر ہوتے ہی اس نے اس نکاح کو رد کر دیا تو رد ہو گیا اور اگر بعد بلوغ یا بعد علم فور رد نہ کیا اور سوال سے یہی ظاہر ہے تو نکاح لازم ہو گیا ، اب بے طلاق چارہ کار نہیں ۔ جس طرح بنے اس (شوہر) سے طلاق لی جائے ۔ خواہ مہر معاف کر کے خواہ کچھ مزید دے کر ، خواہ حاکم کے جبر و اکراہ سے زبانی طلاق کہلوالیں ۔ بغیر طلاق وانقضائے عدت دوسرا نکاح حلال نہیں اور اگر وہ شخص جس سے نکاح ہوا، نسب و پیشہ اور چال چلن کے لحاظ سے اس عورت کا کفو نہ تھا یا مہر میں غبن فاحش ہوا تو نکاح سرے سے منعقد ہی نہ ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله