شوہر کی نامردی کے باوجود رضائخ کا مطالبہ زائل کر دیتی ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کو ہندہ سے شادی کئے ہوئے تقریباً ۵ سال ہو گئے۔ ہندہ دوسال سسرال میں رہی اب تک ان کے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ ہندہ کی ماں نے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے ہندہ نے کہا کہ لڑکا نا مرد ہے یہاں تک کہ زید ہمارے پاس آنے سے انکار کرتا ہے اور بہت پریشان کرتا ہے۔ ہندہ کہتی ہے کہ زید کھانا کپڑا بھی نہیں دیتا ہے۔ ہندہ اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ جب آپ اس لائق نہیں ہیں تو پھر مجھ کوطلاق دے دیں میں آپ کو مہر معاف کرتی ہوں۔ زید نے ہندہ سے قسم کھانے کو کہا ہندہ قسم کھانے کو تیار ہوگئی لیکن زید کے ماں باپ نے منع کیا۔ قسم کو نہیں مانتے ہم ۔ ڈاکٹری کو مانیں گے۔ ہندہ کی جانب سے تین مرتبہ پنچایت بیٹھی تھی تو زید کے ماں باپ لڑکے کو پہنچایت میں بیٹھنے سے منع کر دیتے ہیں اور ان کے ماں باپ کہتے ہیں کہ کسی اور جگہ گیا ہے۔ ہندہ پنچایت میں بیان بھی کرتی ہے کہ میں ابھی بیوہ ماں کے پاس رہتی ہوں میری ماں مزدوری کر کے کھلاتی ہیں ہندہ کا کہنا ہے کہ کوئی ایسی صورت ہے کہ میں زید سے بری ہو جاؤں؟ حدیث وقرآن کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب: صورت مسئولہ میں حکم یہ ہے کہ عورت اگر شوہر سے باوصف نامردی راضی رہی اب اسے مطالبہ فسخ نہیں پہنچتا اور صورت سوال سے یہی ظاہر ہے لہذا شوہر جب تک طلاق نہ دے اور عدت نہ گزرجائے دوسرے سے نکاح حرام ہے۔ در مختار میں ہے: (1) (۲) فرق الحاكم بطلبها لوحرة بالغة قبل النكاح وغير راضية بعده“ملتقطا (۲) الحديقة الندية شرح الطريقة المحمدية ج ، ا ص ۳۵۱ ، النوع الثالث المكتبة النورية الدر المختار، کتاب النکاح باب العنين ، ج ۵، ص ۱۶۷ ، دار الكتب العلمية بيروت شوہر سے جس طرح بنے طلاق لی جائے خواہ بفہمائش خواہ مہر یا کچھ دے کر خواہ حاکم کے جبر و اکراہ سے زبانی طلاق کہلوالیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله