شوہر کے جنون اور بدسلوکی کی وجہ سے ہندہ کے نکاح کے فسخ اور گلو خلاصی کی صورت
ہندہ بالغہ کا نکاح جب زید کے ساتھ ہوا تو اس وقت ہندہ کو جنون زوج سے متعلق کچھ واقفیت نہیں تھی ۔ البتہ اس کے گھر والوں کو ہوئی تھی اس بنا پر اس کے گھر والوں نے زید کے گھر والوں سے تحقیق حال کی تو زید کے گھر والوں نے یہ بتایا کہ آج سے آٹھ دس سال قبل زید مجنون ہوا تھا مگر رانچی کے علاج سے اس کا جنون ختم اور زائل ہو گیا ہے اس کے بعد سے پھر کبھی اس کو جنون لاحق نہیں ہوا۔ اس اطمینان دلانے پر ہندہ کے گھر والوں نے ہندہ کا نکاح زید کے ساتھ کر دیا۔ اس وقت ہندہ کے والد اگر چہ با حیات تھے مگر چونکہ وہ نہایت ہی ضعیف اور بوڑھے تھے اور اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہے تھے اس لئے ہندہ کی شادی کا سارا کام اس کے بھائیوں ہی نے انجام دیا۔ رشتہ کی منظوری بھی اس کے بھائیوں نے ہی دی۔ ہندہ کے والد خاموش رہے۔ بالآخر شادی ہوگئی ۔ جب شادی کے بعد زید کا جنون ظاہر ہوا تب دھیرے دھیرے یہ معلوم ہونے لگا کہ زید رانچی سے آنے کے بعد بھی ٹھیک نہیں تھا اور اس کا جنون رہ رہ کر بھرتا رہتا تھا اور شدت اختیار کرتا رہتا تھا۔ اس حقیقت کو زید کے گھر والوں نے مخفی رکھا اور ظاہر نہیں کیا تا کہ رشتہ نکاح کے طے ہونے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ الغرض شادی کے بعد جب زید کا جنون شدت اختیار کر گیا تو یہ سلسلہ کئی ماہ تک لگا رہا۔ ادھر اُدھر کے علاج سے جب فائدہ نہ ہوا تو پھر دوبارہ اس کو رانچی کے پاگل خانہ میں بھرتی کرایا۔ تقریبا ایک ماہ کے بعد وہاں سے گھر آیا مگر اب بھی اس کا وہی حال ہے جیسا کہ دیکھنے والوں نے بتایا۔ زیدا بھی رانچی نہیں گیا تھا تو اس سے قبل ہی سے زید کا سلوک ہندہ کے ساتھ اچھا نہیں تھا۔ یعنی جب جنون کی شدت میں کچھ کمی ہوتی تو زید ہندہ کے ساتھ بدسلوکی کرتا ، بدکلامی، بدزبانی، الزام تراشی اور طرح طرح کی ناروا حرکتیں بھی کرتا۔ یہاں تک کہ جان سے مار ڈالنے تک کی دھمکی دیتا۔ ہندہ عاجز ہو کر اپنے میکہ آگئی اور کہنے لگی کہ اب میں کسی قیمت پر زید کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ زید کا سلوک میرے ساتھ نا قابل برداشت ہے اور میرا نبھاؤ زید کے ساتھ نہیں ہوسکتا ہے۔ ہندہ ایک شریف اور اچھے دیندار کی لڑکی ہے اور خود بھی شریف اور نیک ہے اس کے شوہر اور شوہر کے گھر والوں کا معاشرہ غیر شریفانہ ہے۔ ان حالات کے پیش نظر دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ کی گلوخلاصی کی کیا صورت ہوگی؟ بینوا وتوجروا امستفتی: محمد امیر احمد ، بینی باڑی
یہ کہ ہندہ الجواب: بے طلاق حاصل کیے دوسرے سے نکاح ہندہ کو حلال نہیں نہ مذہب حنفی میں مطالبہ فسخ کا اختیار۔ ہندیہ میں ہے: اذا كان بالزوج جنون او برص او جذام فلا خيار لها كذا فی الکافی (1) لیکن اگر واقعی ضرورت شرعیہ ہو تو امام محمد علیہ الرحمہ کے مذہب پر عمل کی اجازت ہے۔ ان کا مذہب یہ ہے کہ عورت حاکم شرع ( کہ اب ہر جگہ کا سنی صحیح العقیدہ سب سے بڑا عالم مرجع فتویٰ ہے) کے حضور آئے وہ بعد تحقیق حال اگر جنون کو معطبق پائے گا (یعنی اس کو یہ ثابت ہو کہ جنون مدت دراز سے ہے اور کبھی اچھا نہیں ہوا) عورت کو فوراً اختیار دے گا۔ اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرے گی تو حاکم تفریق کر دے گا اور اگر شوہر کو اختیار کرے گی تو اس کا اختیار جاتا رہا اور اگر جنون حادث متحقق ہوگا تو شوہر کو سال بھر کی مہلت دے گا پھر جب اچھا نہ ہو تو حاکم عورت کو اختیار دے گا اور بر نقد بیر اختیار نفس تفریق کر دے گا۔ اسی ہندیہ میں ہے: وقال محمد ان كان الجنون حادثا يؤجله سنة كالعنة ثم يخير المرأة بعد الحول اذالم يبر أو ان كان مطبقا فهو كالجب و به ناخذ کذافی الحاوی (۲) میہ اس صورت میں ہے جبکہ زید ہنگام نکاح ہندہ کا کفونسب و پیشہ اور چال چلن میں رہا ہو ورنہ سرے سے نکاح منعقد ہی نہ ہوا۔ در مختار میں ہے: ”ويفتي في غير الكفؤ بعدم جوازه اصلا و هو المختار للفتوى الفساد الزمان فلا تحل مطلقة ثلاثا نكحت غير كفؤ بلارضی ولی بعد معرفته ایاه فلیحفظ “ (۳) اسی میں ہے: وو وتعتبر في العرب والعجم ديانة فليس فاسق كفواً لصالحة او فاسقة بنت صالح معلناً كان اولا على الظاهر () واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۴ ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ