غصے میں بیوی کو 'چھٹی دی' اور 'طلاق دی' کہنے سے متعلق دریافتِ مسئلہ
جا میں نے تجھ کو چھٹی دی، جا میں نے تجھ کو چھٹی دی پھر کہا ”میں نے تجھ کو طلاق دی ، میں نے تجھ کو طلاق دی کیا فرماتے ہیں علمائے محققین اہل سنت والجماعت اس مسئلہ میں کہ: زاہد کی والدہ اور اس کی بیوی میں تکرار ہو گئی ، جبکہ زاہد والدہ کو اور بیوی کو لڑائی سے منع کرتا رہا، نہ بیوی ہی لڑائی سے بعض آئی نہ والدہ ہی خاموش ہوئیں۔ مگر جبکہ زاہد کی بیوی والدہ کی شان میں چند جملے ناجائز اور گستاخانہ استعمال کرنے لگی تو زاہد نے اپنی بیوی سے کہا کہ: جا میں نے تجھ کو چھٹی دی، جا میں نے تجھ کو چھٹی دی۔ مگر زاہد کی بیوی نے یہ جملے نہ سنے تھے۔ بیوی کچھ قدم اور آگے نکل چکی تھی تو زاہد نے یہ بھی کہہ دیا کہ : میں نے تجھ کو طلاق دی، میں نے تجھ کو طلاق دی۔ یہ الفاظ زاہد کی بیوی نہ سنی تھی مگر جبکہ جھگڑا ہور ہا تھا اس وقت آس پڑوس کے دو چار آدمی آگئے تھے جو کہ سب داڑھی منڈے قوم کے تھے، انہوں نے زاہد کی بیوی سے کہا کہ: تجھ کو زاہد نے طلاق دیدی تو اس نے ان دونوں شخصوں سے کہا کہ : میں نے تو نہیں سنا۔ ان شخصوں کے کہنے پر وہ پردے میں ہوگئی ۔ زاہد نے اس کی صورت نہیں دیکھی۔ لہذا سر کار عالی اس مسئلہ کو حل فرما دیں کہ زاہد پر کیا کفارہ واجب ہے؟ عورت زاہد کی بیوی کسی دوسرے کے گھر جانے پر آمادہ نہیں ہے، بچے ہیں نہ ان کو چھوڑنا چاہتی ہے۔ اپنی غلطی پر معافی یا کفارہ یا تو بہ کرنے پر بسر و چشم تیار ہے۔ عالی جناب میں مؤدبانہ عرض ہے کہ دونوں ہی اشخاص کو جو حکم شرعی ہو، ماننے کو تیار ہیں۔ فقط ، والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ المستفتی: غلام صابر حسین کار پینٹر محله چک، پر انه شهر، بریلی شریف (یوپی)
الجواب: چھٹی دی مشترک ہے کہ طلاق میں غالب الاستعمال ہے تو جہاں طلاق دینے کے مترادف اور صریح ہے ، والصریح یحق الصریح۔ لہذا دو مرتبہ ”چھٹی دی“ کہنے سے دو طلاق صریح اور طلاق دی“ سے ایک طلاق واقع ہو کر طلاق مغلظہ ہو گئی اور عورت اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ اس کے لئے حلال نہیں۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کرے اور جماع کرا کے طلاق لے لے یا وہ مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے پھر عورت عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالى: (حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ) () وقال النبی سالم : " لا حتى تذوقی عسیلته ويذوق عسیلتک (۲) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۶ / جمادی الاخری ۱۳۹۷ھ