حالت حمل میں طلاق کا وقوع اور تین طلاق کے بعد حلالہ کا حکم
تو گھر کے اندر کئی عدد تعویذ نکلا اور جب زید نے ہندہ سے یہ الفاظ کہے اس وقت ہندہ حمل سے تھی اس کے دو ماہ بعد ہندہ کوٹر کی تولد ہوئی اور ہندہ کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور زید کہتا ہے کہ مجھ سے غلطی ہوئی ، معافی چاہتا ہوں۔ شریعت مطہرہ کا زید کے اوپر کیا حکم ہے؟ عنایت فرمائیں۔ معین نوازش ہوگی ؟ المستفتی: محمد فاروق سہسوانی ٹولہ، بریلی شریف
الجواب: یہ جملہ طلاق میں غالب الاستعمال ہے۔ کہ عموماً اس سے عرف میں طلاق ہی مراد لیتے ہیں تو یہ صریح ہے اور صریح صریح کو لاحق ہوتی ہے۔ درمختار میں ہے: الصريح يلحق الصريح (1) لہذا تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور عورت ایسی حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ حلال نہیں ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت کسی سے نکاح صحیح کر کے جماع کرے، وہ بعد جماع طلاق دیدے یا مر جائے یا خدا نہ خواستہ مرتد ہو جائے پھر عورت عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کرے۔ قال تعالى : (حتى تنكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ) (٢) وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : ،، لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۳) حمل مانع وقوع طلاق نہیں اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے، حمل ختم ہو گیا تو عدت پوری ہوگئی اور اگر جملہ مذکورہ طلاق کے معنی میں غالب الاستعمال نہیں تو ایک طلاق بائن کا حکم ہے جبکہ نیت طلاق ہو۔ بہ رضائے زن بہ مہر جدید پھر اس سے نکاح کر سکتا ہے جبکہ پہلے دوطلاق نہ دے چکا ہو۔ حکم خدا کا ہے، (1) الدر المختار، کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج ۴، ص ۵۴۰ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) سورة البقرة - ٢٣٠ (۳) جامع الترمذی، ابواب النکاح، ج ۱، ص ۱۳۳ ، مجلس برکات مفتی کا کام اسے ظاہر کرنا ہے۔ جو صورت واقع ہو اس پر عمل لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳/ ذوالحجہ ۱۳۹۶ھ