لفظ چھٹی دی کے استعمال سے طلاق کے وقوع کا حکم
سوال
ہوا ؟ اگر ہوا تو طلاق ہوئی؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
المستفتی : سید افسر عالم مارہروی ۱/۲ پریل ۱۹۹۸ء الجواب: صورت مسئولہ میں نکاح ہو گیا، اب بے طلاق یا تفریق شرعی عورت اس کے نکاح سے باہر نہ ہوگی ۔ صورت مسئولہ میں اگر یہ جملہ کہ ”چھٹی دی اس جگہ کے عرف عام میں طلاق کے معنی میں غالب الاستعمال ہے تو بہر حال ایک طلاق رجعی بیوی پر واقع ہوگئی اور اگر شوہر نے عدت میں رجعت نہ کی ہو تو اب بعد عدت عورت مختار ہے اور اگر یہ لفظ وہاں طلاق کے معنی میں غالباً مستعمل نہیں ہوتا تو کنایات کے اقسام سے ہے اور جواب کے لئے متعین ہے۔ لہذا اگر حالت مذاکرہ طلاق کی یا غضب کی تھی تو ایک بائن طلاق کا حکم ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۰؍ جمادی الاولی ۱۳۹۸ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۷ · صفحہ ۲۸۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
کنایہ الفاظ (مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں) سے طلاق کی نیت کا حکم
باب: کتاب الطلاق
شوہر کے پاگل ہو جانے پر فسخ نکاح کا حکم اور شرائط
باب: کتاب الطلاق
لفظ ’مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں ہے‘ کہنے سے طلاق واقع ہونے کا حکم
باب: کتاب الطلاق
میرا بچہ پیدا ہوگا تو ہم خنزیر کے گوشت کی نیاز کریں گے کہنے والے کا حکم
باب: کتاب الطلاق
حالت حمل میں طلاق کا وقوع اور تین طلاق کے بعد حلالہ کا حکم
باب: کتاب الطلاق