لفظ ’مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں ہے‘ کہنے سے طلاق واقع ہونے کا حکم
نہیں بلا کر لاؤں گا تو لوگوں نے کہا اگر بلا کر نہیں لانا ہو تو اس کو طلاق دے دو اس پر زید نے کہا کہ میں نے تمام سامان پر اور لڑکی پر خاک ڈالی ۔ تین بار یہ لفظ کہا: مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لڑکی کا باپ مجبور ہے جولڑ کی کا خرچ برداشت کر سکے۔ تو اس حالت میں لڑکی کو طلاق ہوئی یا نہیں؟ جواب سے آگاہ کریں۔ مہربانی ہوگی۔ فقط والسلام المستفتی: ہومیاں قصبہ سر ولی ضلع بریلی شریف
الجوا: فی الواقع زید نے اگر یہ جملہ کہ مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، طلاق کی نیت سے کہا ہو تو اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو گئی اور یہ اس لئے کہ اس کا جملہ رد اور جواب دونوں کا محتمل ہے اور ایسی صورت میں طلاق نیت پر موقوف ہوتی ہے۔ درمختار میں ہے: ”وفي مذاكرة الطلاق يتوقف الاول فقط أى ما يصلح للرد والجواب لأن حالة المذاكرة تصلح للرد والتبعيد دون الشتم“ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله