طلاق کنائی، زلۃ القاری، اور دار الاسلام و دار الحرب کے متعلق سوالات
جاؤ ، میں نے تم کو جواب دے دیا ، دے دیا۔ صورت مسئولہ میں طلاق ہوگئی یا نہیں؟ اگر ہوئی تو کون سی طلاق ہوئی اور اس کے لئے اب محمد عباس کیا کریں؟ (۲) ایک امام سورہ فاتحہ کے بعد سورہ والعصر پڑھتے تھے۔ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ پڑھ کر فَلَهُمْ أَجْرَ غَيْرُ مَمْنُونٍ 0 پڑھا تو ایک لقمہ پڑا جب بھی وہ نہیں مانا ، فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ پڑھا۔ پھر ایک لقمہ پڑا۔ بعد میں امام صاحب پھر والغضر کو دوبارہ پڑھ کر نماز ختم کئے، سجدہ سہو نہیں کئے تو اس حالت میں کسی کی نماز خراب ہوئی ؟ (۳) دار الاسلام اور دارالحرب میں کیا فرق ہے؟ اور دونوں میں سے ہر ایک کی کیا تعریف ہے؟ ہندوستان دارالاسلام ہے یا نہیں؟ اور انگلینڈ دارالحرب ہے یا نہیں؟ ان تینوں سوال کا مدلل جواب عنایت فرمائیں اور بہت جلد جواب ارسال کردیں۔ المستفتی : ابوالوقار ذوالفقار احمد اشرفی ، مقام بائسی ، ڈاکخانہ باکسی ہاٹ ضلع پورنیہ (بہار)
الجواب: (1) صورت مسئولہ میں محمد عباس نے اگر طلاق کی نیت سے کلمات مذکورہ کہے تو ایک طلاق بائن پڑ گئی ۔ ہندیہ میں ہے: ”ولا يلحق البائن البائن بأن قال لها : انت بائن ثم قال لها انت بائن لا يقع الا طلقة واحدة بائنة لانه يمكن جعله خبراً عن الأول وهو صادق فيه فلا حاجة الى جعله انشاء لأنه اقتضاء ضروری“ (۱) ہاں دوسرا کلمہ بہ نیت طلاق ثانی کہا تو دوسری بھی واقع ہوگئی۔ محمد عباس اگر چاہے تو اس سے نکاح کرسکتا ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۲) صورت مسئولہ میں کسی کی نماز خراب نہ ہوئی ۔ کمافی الہندیہ (۲) اگر امام مذکور نے بقدر ایک رکن کے سکوت نہ کیا توسجدہ سہو بھی واجب نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم (۱) الفتاوى الهندية ، كتاب الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات، ج ۱، ص ۴۴۵ ، دار الفکر، بیروت (۲) الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة الفصل الخامس في زلة القارى، ج ۱، ص ۱۳۸، دار الفکر بیروت (۳) دار الحرب وہ ہے جہاں کل سیئہ یا بعض احکام شرک جاری ہوں اور احکام اسلام میں سے کوئی حکم نافذ نہ ہو۔ اور دارالاسلام وہ ہے جہاں کل یا بعض احکام اسلام جاری ہوں ۔ رد المحتار میں ہے: قوله باجراء احکام اهل الشرك أي على الاشتهار وأن لا يحكم فيها بحكم أهل الاسلام هندية وظاهره أنه لو أجريت أحكام المسلمين وأحكام أهل الشرك لاتکون دار حرب بلا شبہ یہاں سے امام اعظم رضی اللہ عنہ بلکہ علمائے ثلاثہ رحمتہ اللہ علیہم اجمعین کے مذہب پر ہندوستان دارالاسلام ہے، ہرگز دار الحرب نہیں ہے کہ دارالاسلام کے دارالحرب ہو جانے میں امام اعظم امام الائمہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک جو تین باتیں درکار ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی کہ وہاں احکام شرک علانیہ جاری ہوں ۔ اور شریعت اسلامیہ کے احکام و شعائر مطلقاً نہ جاری ہونے پائیں اور صاحبین کے نزدیک استقدر کافی ہے، تفصیل بذا المرام في رسالة المجدد الاعظم الحمام اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام فليطالع ثمہ۔ انگلینڈ میں اگر یہی صورت ہو کہ احکام کل سیئہ جاری ہوں اور احکام اسلام مطلقاً جاری نہ ہوں تو بلاشبہ دارالحرب ہے۔ ورنہ دار الاسلام ہے۔ کما عن رد المحتار۔ واللہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ احکم ولی اللہ علیہ وسلم وعلی حبیب سید العلم و آله وصحبه نجوم الہدی و مصابیح انظم آمین الی یوم الدین۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۳ رذی القعده ۱۳۹۱ھ / ۱۰ جنوری ۱۹۷۲ء، بوقت شام الجواب صحیح حسین رضا غفرلك