فسخ نکاح کا حق اور دھوکہ دہی سے طلاق نامہ پر انگوٹھا لگانے کا حکم
خالد کے گھر آباد نہیں کرنا چاہتے بلکہ زید کے گھر آباد کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا اس کشمکش میں بندہ کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہے یا کہ نہیں؟ (۲) ذاکر عرصہ سے زبیدہ سے نکاح کیا ہوا تھا۔ ایک شخص نے فرضی طلاق نامہ لکھ کر اور اس پر گواہ شہادت ڈال کر ذاکر کا فرضی انگوٹھا اس طلاقنامہ پر لگالیا اور یہ بات مشہور کر دی کہ ذاکر نے زبیدہ کوطلاق دیدی گواہ بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں لیکن ذاکر کہتا ہے کہ اس شخص نے مجھے یہ کہا کہ پاسپورٹ کی درخواست دے رہا ہوں آپ اس درخواست پر انگوٹھا لگا دو۔ ذاکر کا کہنا ہے کہ میں نے انگوٹھا لگا دیا۔ مجھے یہعلم نہیں تھا۔ مجھے دھوکہ دیکر انگوٹھا لگوالیا اور میں نے کوئی لفظ زبان سے نہیں نکالا اور نہ مجھے اس بات کا علم تھا۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ جب تک ذاکر نے اپنی زبان سے طلاق کے الفاظ نہ کہے ہوں، طلاق واقع نہیں ہوتی ، تو کیا یہ طلاق واقع ہوئی یا کہ نہیں؟ قرآن وحدیث کی رو سے ان باتوں کا مکمل فیصلہ صادر فرمائیں۔ مستفتی شکر الدین، پوسٹ گاؤں کٹولہ ضلع گوندی
الجواب: (۱) ہندہ کو فسخ نکاح کا حق حاصل نہیں۔ جب تک زید سے طلاق کے بعد عدت نہ گزرجائے ہندہ کو دوسرے سے نکاح حرام قطعی ہے اور ہندہ وخالد سخت گناہگارزانی و زانیہ مستوجب نار مستحق غضب جبار ہوئے اور جس جس نے ہندہ کی یہ نا جائز ہٹ مانی اور اس سے راضی رہے، وہ بھی سخت ملزم ہوئے ، ان سب پر تو بہ لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اگر یہ واقعہ ہے جو تحریر ہوا تو طلاق نہ ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۸ رذی قعده ۱۴۰۶ھ