نکاح زید سے ہوا مگر عورت کا خالد کے ساتھ رہنے کا مطالبہ اور حق فسخ کا مسئلہ
نکاح زید سے ہوا مگر پہلے دن سے ہی خالد کے ساتھ رہتی ہے تو کیا حق فسخ حاصل ہو گا ؟ بے اطلاع طلاق نامہ پر دستخط سے طلاق ہوگی کہ نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل کے بارے میں کہ: (1) زید کا نکاح ہندہ سے قرار پایا تھا مگر نکاح کے وقت ہندہ کہتی ہے کہ میں زید کے ساتھ نکاح نہیں کروں گی بلکہ زید کے بڑے بھائی خالد سے نکاح کروں گی۔ ایسی مجبوری کی وجہ سے ہندہ کے والدین اور سسرالی نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ فی الحال آپ زید سے نکاح کر لو بعد میں آپ کو زید کے بڑے بھائی خالد کے گھر آباد کر دیا جائیگا۔ اس قسم پر ہندہ نے زید سے نکاح کرلیا۔ اور ہندہ کے والدین نے ہندہ کو سسرال رخصت کر دیا۔ سسرال جا کر ہندہ خالد کے ساتھ رہتی رہی عرصہ ایک سال خالد کے ساتھ آبادر ہی عرصہ ایک سال کے بعد کسی لڑائی جھگڑا پر ہندہ کے والدین ہندہ کو اپنے گھر لے گئے اب عرصہ ایک سال کا ہو گیا ہندہ والد کے گھر رہتی ہے۔ ہندہ مجبور ہے نہ ہندہ کے والدین ہندہ کو سسرال بھیجتے ہیں اور نہ ہندہ کو سسرال سے کوئی بلانے آتا ہے۔ ہندہ کہتی ہے کہ اگر مجھے سسرال بھیجدیں تو میں زید کے گھر آباد نہیں رہوں گی بلکہ خالد کے گھر آبادر ہوں گی ۔ ہندہ کے سسرالی کہتے ہیں کہ ہم ہندہ کو زید ہی کے گھر آباد کریں گے۔ ہندہ اس بات کو نہیں مانتی زید ہندہ کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہے اور ہندہ زید کے گھر آباد ہونے کو مطلقاً حرام قرار دیتی ہے اور کہتی ہے کہ جو وعدہ قسم نکاح کے وقت ہوا تھا میں اسی پر قائم رہوں گی ، میں خالد کے گھر آبادر ہوں گی ۔ خالد کی ایک دوسری عورت ہے اس لئے ہندہ کے سسرالی
(۱) ہندہ کو فسخ نکاح کا حق حاصل نہیں۔ جب تک زید سے طلاق کے بعد عدت نہ گزرجائے ہندہ کو دوسرے سے نکاح حرام قطعی ہے اور ہندہ وخالد سخت گناہگارزانی و زانیہ مستوجب نار مستحق غضب جبار ہوئے اور جس جس نے ہندہ کی یہ نا جائز ہٹ مانی اور اس سے راضی رہے، وہ بھی سخت ملزم ہوئے ، ان سب پر تو بہ لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم(۲) اگر یہ واقعہ ہے جو تحریر ہوا تو طلاق نہ ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله۸ رذی قعده ۱۴۰۶ھ