نکاح کے بعد لڑکے کو پاگل پایا تو تفریق کی کیا صورت ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: مدعیہ ناصرہ خاتون بنت حاجی ظفر خاں صاحب ابن مرحوم یعقوب علی خاں صاحب کا بیان ہے کہ میری لڑکی کی شادی میرے باپ نے محمد ابوالحسن پسر مرحوم عبدالمجید صاحب کے سلسلے میں محمد نور الہدیٰ صاحب پسر عبد الغفور صاحب ساکن ملوکپور کا وکیل بن کر حاجی صاحب مذکور کے پاس تشریف لائے وکیل صاحب کو معتبر جان کر ہم نے اپنی لڑکی کی شادی طے کر دی۔ رسم و رواج کے مطابق شادی بھی ہو گئی ۔ شادی کے بعد لڑ کی سسرال بھی گئی۔ سسرال میں لڑکے سے لڑکی کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ اس درمیان بارش اور سیلاب کی وجہ سے لڑکی بعد کو اور لڑکا پہلے وہاں یعنی لڑکی کے گھر پہنچ گیا۔ بھا دو ماہ ( رسم کے مطابق ) آنے کی وجہ سے لڑکا دوسری شب گھر لوٹ گیا۔ اسی دن لڑکی شام کو گھر واپس آگئی۔ یعنی خلاصہ یہ ہے کہ لڑکے کی ملاقات لڑکی سے نہیں ہو سکی۔ بعد میں لڑکا پورا پاگل ثابت ہوا۔ ان وجوہات
الجواب: صورت مسئولہ واقعیہ ہے اور ضرورت ، ملجئہ تو عورت کو حکم ہے کہ حاکم شرع سے استغاثہ کرے اور اب ہر جگہ کا سب سے بڑا سنی صحیح العقیدہ عالم مرجع فتویٰ حاکم شرع ہے۔ اس حاکم کو جب تحقیق ہوگا کہ جنون واقعی مطبق ومند ولازم ہے کہ مدت دراز گز را افاقہ نہ ہوا تو وہ عورت کو اختیار دے گا کہ خود شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو اختیار کرے۔ شوہر کو اختیار کیا تو اب اختیار جاتارہا اور اگر نفس کو اختیار کرے گی تو حاکم شرع فور دونوں میں تفریق فرمادیگا اور اگر جنون حادث ہو یعنی بھی افاقہ ہو جاتا ہے تو حاکم اس کے لئے ایک سال مدت علاج مقرر فرمائے گا اس مدت میں وہ اچھا ہوا تو خیر اور اختیار فرقت ، زائل ور نہ حاکم اسی تفصیل پر جو گزری ، تفریق فرمادے گا۔ ہندیہ میں ہے: اذا كان بالزوج جنون او برص او جذام فلا خيار لها، کذا فی الکافی“ قال محمد رحمه الله تعالى : ان كان الجنون حادثا ، يؤجله سنة كالعنة-ثم يخير المرأة بعد الحول اذالم يبرأ - وان كان مطبقا، فهو كالجب (1) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۹ محرم الحرام ۱۴۰۸ھ (1) الفتاوى الهندية كتاب الطلاق الباب الثاني عشر: في العنين ، ج ۱، ص ۵۷۹ ، دار الفکر بیروت