طلاق کا اختیار شوہر کو ہے، کوئی قاضی از خود طلاق نہیں دے سکتا اور نہ ہی اس کی دی ہوئی طلاق واقع ہوگی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید نے ہندہ سے نکاح کیا تھا۔ ہندہ کی بیہودہ عادت اور بدچلنی سے تنگ آکر زید نے لگ بھگ دو سال کے عرصے تک اس سے ہر قسم کے تعلقات نہیں رکھے ۔ ہندہ اپنے میکے میں رہ رہی تھی، اسے اپنے گھر لا کر سیدھے راستے پر چلانے کا ارادہ رکھتے ہوئے زید نے ہر صورت اپنائی مگر ہندہ میکے سے نہ آنے کے فیصلہ پر ائل رہی۔ ادھر زید بھی خاموش رہا۔ اسی درمیان ہندہ نے صدر قاضی کے ذریعہ ایک گمنام درخواست بھیج دی۔ اس میں ہندہ کا کوئی دستخط نہیں ہے۔ صدر قاضی کا کہنا ہے کہ : میں (صدر قاضی ) یہ خلع نامہ دے دیا ہوں۔ زید کی رضامندی کے بغیر صدر قاضی کو خلعنا مہ دینے کا حق ہے کیا ؟ اس کے بعد زید کی رائے کے بغیر ہندہ نے دوسرے بکر سے نکاح کر لیا ہے۔ کیا وہ نکاح درست ہوا یا زنا کاری ہوتی ہے؟ اور جو نکاح پڑھانے والے قاضی ، گواہ اور وکیل، ان لوگوں کا نکاح رہا یا باطل ہوا ؟ خلع نامہ کس طرح ہوتا ہے؟ اس کے شرائط کیا ہیں؟ اب اس کی کیا صورت کرنی چاہئے ؟ ہندہ کے پاس ایک تین سال کالڑکا ہے جس کے بارے میں ضلع نامہ میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس لڑکے کو زید کب اپنے پاس لا کر رکھنے کا حقدار ہوجاتا ہے؟ آنجناب سے التجا ہے کہ مندرجہ بالا سوالات کے جواب بدلائل شرعیہ مع حوالہ مہربانی کر کے مطلع فرمائیں۔ فقط بینوا توجروا المستفتی: قدرت علی خاں (کنک)
الجواب: طلاق کا اختیار شوہر کو ہے۔ کوئی قاضی از خود طلاق نہیں دے سکتا نہ اس کی طلاق شرعاً واقع ہو۔ حدیث میں ہے: (لا طلاق فیما لا یملک) فتح الباری شرح صحیح البخاری ج ۹، ص ۴۷۳، کتاب الطلاق ، مطبع دار الفيحاء دمشق /سنن ابن ماجه ص ا ا باب الطلاق، مکتبه تهانوی، دیوبند نیز حدیث میں ہے: الطلاق لمن اخذ بالساق (1) لہذا اس نام نہاد قاضی کی طلاق اصلاً واقع نہ ہوئی اور وہ عورت شوہر کے سوا دوسرے کے لئے ہرگز حلال نہ ہوئی ۔ لہذا اس کا نکاح دوسرے شخص سے حرام قطعی ہوا اور اگر اسے معلوم تھا کہ عورت منکوحہ غیر ہے تو اصلاً نکاح نہ ہوا اور جتنی قربت ہوئی ، خالص زنا اور اگر اسے علم نہ تھا تو نکاح فاسد ہوا اور بعد علم متارکہ و جدائی فرض اور تاخیر گناہ۔ واقفان حال شرکائے نکاح ، وکیل و گواہ سب کے سب اشد گناہ گار حق اللہ وحق العبد میں گرفتار مستحق نار ہوئے۔ سب پر تو بہ لازم ہے۔ طلاق نامہ میں ضروری ہے کہ شوہر خود تحریر کرے یا دوسرا تحریر کر دے اور وہ اس کے مضمون پر مطلع ہو کر دستخط کرے۔ اور بچہ بہر حال سات برس کی عمر تک ماں کے پاس رہے گا خواہ اس کی ماں کو طلاق دے دے یا نہ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ القوی صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۲ رشوال المکرم ۱۴۰۰ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی