نامرد شوہر کی صورت میں عورت کے لیے مطالبہ تفریق اور اس کی شرائط کا بیان
نا قابل ، جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے قابل ثابت نہیں حکیم امتیاز احمد صاحب سے بریلی رکھ کر کافی علاج کرایا لیکن نا کامیاب رہا جس کی مندرجہ ذیل دو عورتیں گواہ ہیں جن کے نشان ذیل میں کئے ہوئے ہیں ۔ ایسی صورت میں بھی وہ لڑکی کو نہیں چھوڑ رہا ہے۔ ایسی صورت میں طلاق کی ضرورت ہے یا نہیں؟ جواب لکھ دیا جائے۔ المستفتی: عبدالستار قصبہ نیور یا ضلع پیلی بھیت
الجواب: شرعاً نامر دوہ ہے جو اپنی بیوی کی شرمگاہ میں جماع کے اوپر کبرسن یا مرض کی وجہ سے قادر نہ ہو۔ (هو) لغة : من لا يقدر على الجماع، وشرعا: (من لا يقدر على جماع فرج زوجته) ،، یعنی لمانع منه ككبر سن او سحر - الخ ) بر تقدیر صدق سوال شخص مذکور اگر اس معنی کر نا مرد ہے تو اس کی عورت کو حاکم شرع کے حضور مطالبہ تفریق کا اختیار ہے جبکہ قبل نکاح اس کے حال کی اسے خبر نہ ہو نہ بعد نکاح اس سے راضی رہی ہو۔ اسی در مختار میں ہے: (فرق) الحاكم بطلبها لو حرة بالغة غير رتقاء قرناء و غير عالمة بحاله قبل ،، النكاح وغير راضية به بعده “(۲) اور اگر بعد نکاح اس سے راضی رہی یا پہلے ہی سے اس کے حال کی خبر تھی تو حاکم کے حضور استغاثہ کا حق نہ رہا یونہی بعد نکاح شوہر نے اگر ایک بار بھی اس سے جماع کر لیا ہے تو عورت کو مطالبہ تفریق کا حق نہیں پہنچتا ہے۔ اسی میں ہے: فلوجت بعده وصوله اليها مرة او صار عنينا بعده) اى الوصول (لا) يفرق الدر المختار، کتاب الطلاق باب العنين ، ج ۵، ص ۱۶۶ ، ۱۶۵ ، دار الكتب العلمية بيروت الدر المختار، کتاب الطلاق باب العنین، ج ۵، ص ۱۶۷ ، دار الكتب العلمية بيروت لحصولها حقها بالوطئ مرة ) یہاں سے ظاہر اگر شوہر مذکور ابتدا ہی سے نامرد ہے نہ کہ بعد جماع نامرد ہوا اور عورت اس سے راضی نہ رہی اگر ایسا ہے تو چارہ کار یہ ہے کہ حاکم شرع کے حضور حاضر ہو وہ بعد ثبوت و تحقیق حال شوہر کو ایک سال کی مہلت برائے علاج دے گا۔ اس میں اگر جماع کر لیا تو عورت کا حق جاتا رہا ورنہ پھر حاکم شرع کے یہاں آئے اور تفریق چاہے اب وہ بعد ثبوت شوہر کو طلاق کا حکمدے گا اس نے طلاق دے دی تو ٹھیک ورنہ حاکم اس کے اور عورت کے درمیان تفریق کر دے گا۔ اسی میں ہے: (اجل سنة قمرية فان وطئ ) مرة فبها والا) بانت بالتفريق ) من القاضى ان ابى طلاقها ( بطلبها ) اور یہ تفریق ایک طلاق بائن ہوگی جس کے بعد عورت عدت گزار کر مختار ہوگی بالجملہ اگر عورت سے شوہر مذکور نے جماع کر لیا ہے یا جماع پر ابتداء ہی سے قادر نہیں مگر عورت اس سے راضی رہی تو اب تفریق نہیں ہو سکتی اور بصورت دیگر طریقہ کا روہ ہے جو مذکور ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰ر ذی قعده ۱۴۰۲ھ