نفقہ نہ دینے پر فسخ نکاح کا حکم اور ادارہ شرعیہ پٹن کے ایک فیصلہ پر تبصرہ
فقہ نہ دینے پر خ کار نہیں ہوسکا، ایک حقیق انیق اس بابت ادارہ شرعیہ پٹن کے ایک فیصلہ کا فیصلہ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید کا والد انتقال کر گیا، زید چچا کے یہاں پرورش پاتا رہا۔ بعد بلوغت زید کے چچانے اپنی لڑکی ہندہ کوزید کے ساتھ نکاح کر دیا۔ تقریباً چار یا پانچ سال تک زن وشوہر کے تعلقات بہتر رہے، بعدہ کچھ لوگوں نے زید اور ہندہ کے والد کے درمیان نفاق کا بیج ڈالدیا۔ ہندہ کے والد نے زید کو جدا کر دیا۔ زید نے بھی مجبور ہو کر اپنا کاروبار جدا کر لیا۔ اب زید ہندہ کی رخصتی کے لئے بار بار کہتا رہا لیکن ہندہ کے والد انکار کرتے رہے۔ لہذا اسی سلسلے میں چند بار پنچایت ہوئی لیکن ہندہ کے والد پھر بھی راضی نہ ہوئے بلکہ یہ کہتے رہے کہ میں کسی حال میں رخصتی نہیں کروں گا۔ لہذا ضد کی وجہ سے بات بڑھ گئی اور یہاں تک نوبت پہونچی کہ بری طرح مار پیٹ ہو گئی ، دونوں فریق زخمی ہوئے۔ بعدہ حق وحصہ کے لئے اور ہندہ کی رخصتی کے لئے زید نے کچہری کیس کی ، کچہری کے جج نے دونوں فریق اور دونوں فریق کے گواہوں کی بات سن کر یہ فیصلہ کیا کہ زید نصف مال کا حقدار ہے۔ لہذا ہندہ کے والد نے اپنی ضعیفی کی مجبوری ظاہر کی تو جج نے دوبارہ فیصلہ کیا کہ پانچ بیگھہ زمین میں سے ایک بیگھہ زمین زید کو دے دو چونکہ وہ بھی بھتیجہ ہے اور ہندہ کو بھی رخصت کر دو۔ اس وقت ہندہ کے والد نے مان لیا چونکہ کاغذ نہیں کروایا گیا تھالیکن گھر آنے کے بعد
پھر انکار کر دیا۔ گاؤں پہنچایت نے بھی دباؤ دیا پھر بھی حق دینے کے لئے تیار نہ ہوا اور ہندہ کو بھی رخصت کرنے کے لئے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کے چند گاؤں سے رئیس لوگ آئے تا کہ اس معاملہ کا فیصلہ کر دیں۔ اُن لوگوں نے ہندہ کے والد سے بونڈ بھی بنوایا پھر بھی ہندہ کو رخصت نہیں کیا۔ زید مجبور ہو کر بیٹھ گیا لیکن چند نا تجربہ کار اور بے وقوفوں نے ہندہ کے والد کو غلط مشورہ دیا کہ آپ ادارہ شرعیہ پٹنہ میں کیس کریں اور اپنی لڑکی کا نکاح فسخ کروالیں اور لڑکی کو چھٹکارا دلوالیں ورنہ قانونی طور پر زید کو حق وحصہ دینا پڑیگا اور لڑکی رُخصت کرنا ہی پڑیگی اور ہم لوگوں کو کافی رسوائی بھی ہوگی ۔ لہذہ ہندہ کے والد نے دار القضاء ادارہ شرعیہ پٹنہ میں بتاریخ ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۲ء کو کیس کیا جس کا غلط مضمون یہ ہے کہ زید جانوروں کی تجارت کرتا ہے اور میرے ساتھ بُرا سلوک کرتا ہے اس نے مجھ سے کوئی تعلق نہ رکھا نہ تو مجھے نان و نفقہ دیتا ہے نہ طلاق دیکر آزاد کرتا ہے اس لئے میرا نکاح زید سے فسخ کر کے دوسری شادی کی اجازت دیں لہذا قاضی صاحب نے زید کے نام سے نوٹس جاری کیا، تاریخ مقررہ پر زید دار القضاء میں حاضر ہوالیکن ہندہ کے والد حاضر نہ ہو سکے۔ قاضی صاحب نے زید سے کہا کہ اب آپ ۱۵/جنوری ۱۹۸۳ء کو دو معتمد دیندار گواہوں کو لیکر دار القضاء میں حاضر ہوں لہذا پھر تاریخ مقررہ پر دو گواہوں کے ساتھ زید دارالقضاء میں حاضر ہوا۔ قاضی صاحب نے پہلے زید سے پوچھا کہ یہ لڑکی کون ہے؟ تو زید نے کہا کہ یہ میری بیوی ہے تو قاضی صاحب نے پھر پوچھا کہ جب تمہاری بیوی ہے تو اس کے ساتھ بُرا سلوک کیوں کرتا ہے؟ اور نان و نفقہ کیوں نہیں دیتا ہے؟ تو زید نے جواب دیا کہ حضور ہندہ اپنے دعویٰ میں جھوٹی ہے۔ چونکہ میں نے اس کے ساتھ کوئی برا سلوک نہیں کیا اور نہ نان ونفقہ بھی بند کیا میں تو ہر حال میں رکھنے کے لئے تیار ہوں بلکہ ہندہ کے والد رخصتی نہیں کرتے۔ میں چند بار گاؤں میں پنچایت بھی کروا چکا ہوں بلکہ آپ گواہوں سے بھی پوچھ لیں کہ جب جب میں رخصتی کے لئے کہتا ہوں تو مارنے اور پیٹنے کی دھمکی دیتے ہیں، میں مجبور ہو جاتا ہوں۔ پھر قاضی صاحب نے گواہوں سے حلفیہ بیان لیا،ساری غلطیاں ہندہ کے والد میں پائی گئیں ۔ قاضی صاحب کچھ دیر خاموش رہے بعدۂ ہندہ کے والد کو ڈانٹا بلکہ بُرا بھلا بھی کہا قاضی نے یہاں تک کہا کہ ہندہ کے والد کو مار کر آنا چاہئے تھا جبکہ کسی فیصلہ کو ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ لہذا قاضی صاحب نے زید کو گھر بھیج دیا مع گواہوں کے۔ زید گھر آیا بتاریخ ۲۳ رمئی ۱۹۸۳ء کو