شوہر کے پاگل ہو جانے کی صورت میں تفریق اور نکاح ثانی کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: یوسف ولد محبوب جو کہ عرصہ پانچ سال سے پاگل ہو گیا ہے، عالم دیوانگی میں ایک شخص کو چاقو بھی ماردیا تھا، مگر پولیس نے بھی اس کو چھوڑ دیا، اس کی اہلیہ جو کہ عرصہ پانچ سال سے پریشان ہے، کیا وہ یوسف کے نکاح سے خارج ہوگئی؟ اور از روئے شریعت وہ دوسرا نکاح کرسکتی ہے؟ اور عدت کب سے تصور کی جائے گی ؟ شریعت مطہرہ کا جو حکم ہو ، صادر فرمایا جائے۔ فقط طالب جواب استفتاء : بھور و خطیب مسجد سر کاری جاورہ ضلع رتلام (ایم۔ پی۔ / ۱۸ رمئی ۱۹۷۸ء
الجواب: ہمارے مذہب میں جنون کی وجہ سے ہرگز تفریق نہیں ہو سکتی۔ در مختار میں ہے: لايتخير احدهما اى الزوجين بعيب الآخر ولو فاحشاكجنون-الخ )) ہمارے علما سے امام محمد جانب خیار گئے اور حاوی قدسی میں حسب عادت برخلاف عامہ متون و شروح و فتاویٰ اس کی نسبت بہ ناخذ “ بھی لکھ دیا جیسا کہ ان سے عالمگیریہ میں منقول ہوا مگر معتمد و مختار مذہب مہذب امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے با ہمہ اگر جنون حادث ہے پیش از نکاح شوہر مجنون نہ تھا بعد کو جنون پیدا ہوا اور حالت ضرورت بلا مکر و فریب سچی سچی واقعی متحقق ہے تو قول امام محمد پر عمل ممکن لہذا یہ حکم ہے کہ عورت حاکم شرع کے حضور دعوی کرے وہ ثبوت جنون لے کر روز نائش سے ایک سال کامل کی مہلت دے، اگر اس مدت میں شوہر اچھا ہو گیا فبہا اور اگر اچھا نہ ہوا اور عورت نے بعد انقضائے سال پھر دعوی نہ کیا تو وہ بدستور اس کی زوجہ ہے اور اگر پھر رجوع لائی اور حاکم کو ثابت ہوا کہ شوہر ہنوز مجنون ہے تو اب وہ عورت کو اختیار دے گا کہ چاہے اپنے شوہر کو اختیار کرے، یا اپنے نفس کو ، اگر عورت نے اپنے شوہر کو اختیار کیا یا بغیر کچھ کہے چلی گئی یا کھڑی ہو گئی یا کسی نے اسے اُٹھادیا یا حاکم خود اُٹھ کھڑا ہوا تو اب عورت کو اصلاً اختیار نہ رہا، وہ بدستور ہمیشہ اسی مجنون کی زوجہ رہے گی اور اگر مجلس بدلنے سے پہلے عورت نے اپنے نفس کو اختیار کر لیا تو اب حاکم تفریق کر دیگا، اس روز سے عورت طلاق کی عدت بیٹھے، بعدہ جس سے چاہے نکاح کرے۔ سیہ اس صورت میں ہے کہ قاضی کو جنون ثابت ہوا اور اس کا مطبق ہونا ثابت نہ ہو۔ اور اگر حاکم کو ثابت ہو جائے کہ واقعی مدتہائے دراز گزرگئیں کہ یہ شخص مجنون ہے اور آرام نہیں ہوتا تو جنون اس کا مطبق یعنی ملازم و ممتد ہے تو اب سال کی مہلت نہ دے گا بلکہ عورت کو فی الفور اختیار دے گا کہ چاہے شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو۔ اور بصورت اختیار نفس فوراً تفریق کر دے گا۔ ہندیہ میں ہے: و اذا كان بالزوج جنون او برص او جذام فلا خيار لها، كذا فی الکافی قال محمد رحمه الله تعالى : ان كان الجنون حادثا، يؤجله سنة كالعنة ثم يخير المرأة بعد الحول اذا لم يبر أوان كان مطبقا ، فهو كالجب، و به ناخذ کذا فی الحاوی القدسی (۱) جہاں قاضی شرع نہ ہو، وہاں جو عالم دین سچا عالم (سنی صحیح العقیدہ ) تمام اہل شہر میں فقہ میں اعلم ہو، ایسے امور میں حاکم شرع ہے۔ فتاویٰ رضویہ ”بتصرف یسیر“۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۱ / جمادی الاخری ۱۳۹۸ھ