عدت کے ایام، حلالہ کے لیے محلل کا مراہق ہونا اور نکاح و طلاق کے احکام
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (1) زید نے اپنے بہنوئی سے تنازع کرتے ہوئے کہا کہ ایک طلاق، دوطلاق ، تین طلاق ۔ تو عورت نے ڈھائی مہینہ میں تین عدت گزاری۔ اس عورت کی بات کا کسی کو اعتبار نہیں۔ (۲) خیر اسے دوسرے نکاح دلا یا بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ لڑکا بالغ ہوا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں ہوا ہے یہاں کس کا قول معتبر ہے؟ (۳) اسی لڑکے سے نکاح رات کے بارہ بجے ہوا اور چار بجے صبح کو طلاق دیدی پھر وہ عورت عدت گزارے گی یا نہیں؟ (۴) کسی عالم نے اگر یہ فتویٰ دیا کہ پہلے والا شوہر اگر طلاق دیدے تو عدت نہیں گزارے گی اور کسی دوسرے عالم نے اگر نکاح پڑھایا تو شریعت مطہرہ میں کیا حکم نافذ ہوگا ؟ طہرہ میں کیا
تین حیض ختم ہونے کی مدت کم از کم ساٹھ دن ہے! حلالہ کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ محلل مراہق ہو! الجواب: صورت مسئولہ میں جب کہ اتنا زمانہ گزر چکا، جس میں عدت پوری ہو جائے تو عورت کا قول یہ قسم مانا جائے گا اور وہ یہ قسم کہتی ہے کہ میری عدت گزر چکی ہے تو اس کا قول معتبر ہے اور اسے دوسرے سے نکاح جائز ہے۔ در مختار میں ہے: قالت مضت عدتى والمدة تحتمله وكذبها الزوج قبل قولها مع حلفها والا تحتمله المدة لا لان الامين انما يصدق فيما لا يخالفه الظاهر (1) اور صورت مسئولہ میں اتنا زمانہ گزر چکا جس میں عدت پوری ہو جائے ۔ یہ جب ہے جبکہ عورت حیض والی ہو ورنہ اگر آئسہ ہے تو اس کی عدت تین ماہ ہے اور تین حیض ختم ہونے کی مدت کم از کم ساٹھ دن یعنی دو ماہ ہے۔ اسی در مختار میں ہے: "ثم لو بالشهور فالمقدر المذكور، ولو بالحيض فاقلها لحرة ستون يوما والأمة أربعون ما لم تدع السقط كما مر فى الرجعة - الخ“ (۲) واللہ تعالی اعلم (۲) ہمارے ائمہ کے نزدیک حلالہ کے نکاح میں شوہر کا بالغ ہونا ضروری نہیں اگر مراہق کہ قریب بلوغ ہو اور اس کی عمر کی مقدار بارہ سال ہے بلکہ یہاں دس سال کا بھی مراہق ہے جبکہ جماع پر قادر ہو، اس نے بعد نکاح صحیح عورت سے جماع کیا تو عورت شوہر اول کے لئے حلال ہو جائیگی۔ در مختار میں ہے: لا ينكح مطلقة من نكاح صحيح نافذ كما سنحققه بها أى بالثلاث لوحرة وثنتين لو أمة ولو قبل الدخول وما فى المشكلات باطل أو مؤول كما مر حتى يطأها غيره ولو الغير مراهقا یجامع مثله و قدره شیخ الاسلام بعشر سنين أو خصيا أو مجنونا أو ذميا لذمية بنكاح نافذ خرج الفاسد والموقوف (۳) غرض حلالہ کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ لڑکا مراہق ہو اور اگر وہ اپنا بالغ ہونا بتاتا ہے تو اس کا قول مان لیں گے جب بارہ سال کا ہو ، اس کا ظاہری حال اسے جھٹلاتا نہ ہو۔ اسی میں ہے: وو كتاب الطلاق باب العدت و ادنى مدته له اثنتا عشرة سنة ولها تسع سنين هو المختار كما في احكام الصغار فان راهقابان بلغ هذا السن فقالا بلغنا صدقا ان لم يكذبهما الظاهر) والله تعالى اعلم (۳) ضرور گزار یگی۔ واللہ تعالی اعلم (۴) وہ فتویٰ غلط ہے اور اس کے مفتی پر آسمان وزمین کے فرشتوں کی لعنت ۔ بہ حکم حدیث : من افتی بغیر علم لعنته ملئكة السماء والارض (٢) جو بے علم فتوی دے، اس پر آسمان وزمین کے فرشتوں کی لعنت ہے۔ اس پر تو بہ لازم ہے اور عدت میں نکاح پڑھانے والا اور اس کے وکیل و گواہ وشرکا ء اور واقف حال سب کے سب زنا کے دلال ہیں۔ سب پر تو بہ لازم ۔ جس کے ساتھ یہ نکاح ہوا، اگر وہ جانتا تھا اور اظہر یہی ہے تو نکاح سرے سے باطل اور قربت زنا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ