کیا شوہر کے جزام کے مرض کی وجہ سے نکاح خود بخود فسخ ہو جاتا ہے اور عورت دوسرا نکاح کر سکتی ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ہندہ کی شادی زید کے ساتھ ہوئی تھی ، دو چار بار ہندہ اپنے شوہر کے یہاں گئی اور حق زوجیت ادا کرتی رہی اب کسی وجہ سے ہندہ کا شوہر زید اس کو رخصت کرا کر اب تک نہیں لے گیا ہندہ کا باپ ضعیف العمر ہے اور ہندہ اس وقت اپنے باپ کے لئے بوجھ بنی ہوئی ہے۔ ایسی صورت میں ہندہ اور اس کے ماں باپ یہ چاہتے ہیں کہ جوان لڑکی ہے ایک مدت سے اس طرح رُکی ہوئی ہے نہ معلوم کس وقت اس کا پیر غلط راستہ پر پڑ جائے۔ ایسی حالت میں اس کو شو ہر کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ ہندہ کا شوہر نہ تو اس کو بلانے آتا ہے نہ تو اس کو طلاق دیتا ہے۔ ایسی صورت میں جو شریعت کا حکم ہو، نافذ فرمائیں۔ ہندہ کا شوہر جزام کے مرض میں عرصہ ایک سال سے مبتلا ہے جس کا اس نے اب تک کوئی علاج بھی نہیں کیا۔ اگر ایسی صورت میں اس کو شریعت سے دوسرا نکاح کرنے کی اجازت مل جائے۔ فقط ! خادم: عبدالحمید ولد حاجی عبداللہ ساکن موضع کلیان پور ضلع پیلی بھیت
الجواب: (1) عیوب و امراض سے نکاح فسخ نہیں ہو جاتا کہ بے طلاق عورت کو اپنے نفس کا اختیار ہو جائے۔ در مختار میں ہے: لايتخير احدهما اى الزوجين بعيب الآخر (1) ہندیہ میں ہے: اذا كان بالزوج جنون او برص او جذام فلا خيار لها كذا فی الکافی (۲) (۲) وہ بدستور اس کی زوجہ ہے۔ بغیر طلاق وانقضائے عدت دوسرا نکاح حرام قطعی ہے۔ الدر المختار، باب العنين و غیره ، ج ۵، ص ۱۷۵ ، دار الكتب العلمية بيروت الفتاوى الهندية باب العنين ، ج ۱، ص ۵۷۹ ، دار الفکر بیروت قال تعالى : وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاء - الآية () یعنی تم پر حرام ہیں شوہر والی بیویاں ۔ جو صورت بنے ، اس سے طلاق لی جائے ۔ خواہ بز وروز بر دستی زبانی بفہمائش و تحریری طلاق لے لیں پھر بعد عدت جس سے نکاح جائز ہو، نکاح کر دیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ہمارے مذہب میں جنون کی وجہ سے ہرگز تفریق نہیں ہوسکتی البتہ ضرورت ملجئہ میں امام محمد کے مذہب پر عمل جائز ہے!