شوہر کے قول 'وہ بھی دوسری شادی کرلے' سے طلاق بائن کے وقوع کا حکم
ہوا تھا اور باہم اتفاق قائم رہا، ادھر قریب اٹھارہ مہینے سے رئیسن اپنے میکے میں رہتی ہے۔ اس کا شوہر اس کے نان و نفقہ کی خبر نہیں لے رہا ہے، اس اٹھارہ مہینے کے انتظار کے بعد لڑکی کا بڑا بھائی اس لڑکے یعنی محمد شفیق سے جا کر ملا تو معلوم ہوا کہ وہ دوسرا نکاح کر چکا ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ آپ اپنی پہلی بیوی (رئیسن ) کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں؟ کیا اچھا ہوتا کہ اسے بھی بلاتے اور ساتھ رکھتے، تو جواباً فرمایا کہ مجھے اس لڑکی سے کوئی مطلب نہیں ہے، میں نے اپنی دوسری شادی کر لی وہ بھی اپنی دوسری شادی کر لے۔ جب اس سے کہا گیا کہ ایک طلاق نامہ کا کاغذ بنا دو تو وہ طلاق نامہ کا کاغذ بنانے پر راضی نہ ہوا۔ یہ بھی کہا گیا کہ لڑکی دین مہر معاف کرتی ہے، دین مہر کا خوف نہ کیجئے ، ایک طلاقنامہ کاغذ بنادیجئے ، تب بھی وہ راضی نہ ہوا( کاغذ بنانے پر )، اب آپ بھی صحیح خوشی سے آگاہ کریں کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ اگر نہیں تو پھر لڑکی کون سا راستہ اختیار کرے، کہ اسے دوسرے سے نکاح کا موقع نصیب ہو؟ منجانب : محمد حلیم صاحب (لڑکی کا بھائی) جو دھن سنگھ، پوسٹ رشد ا ضلع ہنگلی ( مغربی بنگال )
الجواب: شوہر نے یہ جملہ کہ وہ بھی اپنی دوسری شادی کرلے اپنی بیوی کو طلاق کی نیت سے کہا ہو تو اس پر ایک طلاق بائن واقع ہو گئی۔ اس صورت میں طلاق نامہ کی حاجت نہیں، بعد عدت عورت مختار ہے، جس سے نکاح جائز ہو، کر سکے گی۔ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ یہ جملہ اس نے بے غضب و غصہ کے کہا ہو یاوہ مجلس طلاق کے ذکر کی نہ ہو، اور اگر غصہ سے کہا یا اس مجلس میں طلاق کا ذکر چل رہا تھا تو نیت کی حاجت نہیں ہے۔ درمختار میں ہے: الكنايات لا تطلق بها قضاء الا بنية أو دلالة الحال وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب فالحالات ثلث رضا وغضب و مذاكرة والكنايات ثلث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب أو لا ولا تتوقف الاقسام الثلثة تأثيراً على نية للاحتمال وفي الغضب توقف الأولانان نوى وقع والا لا وفى مذاكرة الطلاق يتوقف الاول فقط - الخ ملتقطا )) رد المحتار میں ہے: قوله (توقف الأولان أى ما يصلح رداً وجواباً وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين الجواب-الخ“ (۱) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (1) رد المحتار، کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج ۴، ص ۵۳۳ ، دار الكتب العلمية بيروت