زوجه گرچہ شوہر سے دور ہو، بچہ شوہر ہی کا ہوگا!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہندہ کی شادی زید کے ساتھ ہوئی اور تقریباً تین سال تک ہندہ زید کے پاس رہی بعدہ میکہ آنے کے بعد ہندہ نے اپنی سسرال جانے سے انکار کر دیا اور میکے میں دو سال تک رہی زید کے طلاق دئے بغیر ہندہ کی شادی عمرو کے ساتھ کر دی گئی اب اس وقت ہندہ کے چار بچے ہیں اور پہلے شوہر یعنی زید نے طلاق تاہنوز نہیں دی ہے۔ لہذا دریافت طلب یہ امر ہے کہ صورت مذکور میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ براہ کرم مطلع فرمائیں! لمستفتی: عبدالسبحان موضع بکوا درگا و پوسٹ بسن جوت ضلع گونڈہ
الجواب: منکوحہ غیر سے نکاح حرام قطعی ہے۔ قال تعالیٰ: {وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاء - الآية } () اور اگر عمرو کو یہ معلوم تھا کہ ہندہ منکوحہ زید ہے جب تو سرے سے نکاح ہی نہ ہوا۔ ورنہ نکاح فاسد ہوا اور بعد علم متارکہ فرض ہوا اور اس میں ایک لمحہ کی تاخیر گناہ چہ جائیکہ اتنی بڑی مدت تک ان دونوں کا ساتھ رہنا یہ حرام در حرام اور حرام ہوا اور ہندہ ہنوز عمرو کے ساتھ مسلسل حرام ہے، ان دونوں پر فرض ہے کہ فورا علیحدہ ہو جائیں اور تو بہ ورجوع لا ئیں اور شوہر ہندہ سے دونوں معافی چاہیں ورنہ زانی و زانیہ رہیں گے ، حق اللہ وحق العبد میں گرفتار رہیں گے مستحق عذاب نار رہیں گے۔ اور تالعان شرعی ہندہ کے بچے اس کے شوہر زید ہی کے قرار پائیں گے۔حدیث میں ہے: الولد للفراش وللعاهر الحجر (۲) (۲) سورة النساء: ۲۴ سنن ابن ماجة، ابواب النكاح، ص ۱۴۴ ، مکتبه تهانوی در مختار میں ہے: رد المحتار میں ہے: سيجي في الاستيلاد ان الفراش على اربع مراتب - الخ قوله (علی اربع مراتب) ضعيف وهو فراش الامة لا يثبت فيه النسب فيه الا بالدعوة ومتوسط وهو فراش ام الولد فانه يثبت فيه بلا دعوة لكنه ينتفى بالنفي و قوى وهو فراش المنكوحة ومعتدة الرجعى فانه فيه لا ينتفى الا باللعان واقوى كفراش معتدة البائن فان الولد لا ينتفى فيه اصلا لان نفيه متوقف على اللعان وشرط اللعان الزوجية واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۱؍رجب المرجب ۱۴۰۰ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، بریلی شریف ۱۲ ؍رجب المرجب ۱۴۰۰ھ (۱) الدر المختار، كتاب الطلاق باب العدة، ج ۵، ص ۲۴۵، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) ردالمحتار، كتاب الطلاق، باب العدة، ج ۵، ص ۲۴۵ ، دار الكتب العلمية، بيروت