تین طلاق کے بعد نفقہ کا مطالبہ اور حلالہ کی شرعی صورت
عدالت چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کے خیمہ میں جا کر دعوی کرتی ہے اور طلاق کے واقعہ کو چھپالیتی ہے، الٹا عدالت میں نان و نفقہ و پارچہ جات کے لئے دعوی کر کے لیتی ہے کہ میرا خاوند ملا زم سرکار کا ہے لہذا مجھ کو 500 روپے ماہوار ملنا چاہئے اور عوام الناس کے روبرو بھی کہ دیتی ہے عمر بھر میں اپنے باپ کے گھر پر بیٹھ کر اپنے خاوند سے تا زندگی خرچہ لوں گی میں اس طلاق نامہ کو قبول نہیں کروں گی۔ اس لئے علمائے احناف سے ملتجی ہوں یہ طلاق اس بستی ہذا کے عوام معزز مسلمانوں کے سامنے سنایا ہے تین طلاقوں کے بعد عورت اپنے خاوند سے نان و نفقہ و پارچہ جات عند الشرع طلب کر سکتی ہے؟ کرم فرما کر پوری وضاحت کے ساتھ انشراح صدر فرما ئیں ورنہ اصلاحی قواعد و قانون پر اس ملک میں قتل وغارت کا حملہ ہوگا اور طلاق کی گرہ اس کے بعد عورت کے ہاتھ ہوگی ۔ ماعلینا الا البلاغ ! المستفتی: شریف محمد خاں علاقہ مکری گڑ تحصیل چور ہا صلے، چمبہ ہماچل پردیس
الجواب: صورت مسئولہ میں مذکور شخص کی بیوی پر تین طلاق واقع ہو گئی اور اب اس پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی ۔ قال تعالى : (فَلا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (1) حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے وہ جماع کرے اور طلاق دید ے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے پھر عورت بعد عدت اس پہلے شوہر سے نکاح کر سکے گی۔ عدت حیض والی کی تین حیض کامل آکر ختم ہو جاتا ہے جسے حیض نہیں آتا اس کی تین ماہ اور حاملہ کی وضع حمل کے بعد عدت کے اندر شوہر پر اس کی بیوی کا نفقہ واجب ہے جس کا مطالبہ وہ کر سکتی ہے اور بعد عدت نہیں ۔ نہ اس کا اس سے مطالبہ کرسکتی ہے نہ اسے بعد عدت کسی جبرود باؤ سے شوہر سے نفقہ لینا حلال ۔ (1) سورة البقرة: ٢٣٠ قال تعالى : وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ- الآية } () واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح وصواب والمجیب مصیب و مشاب قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران