مفقودالخبر شوہر کی بیوی کا حکم اور غیر مرد کے ساتھ بغیر نکاح رہنے کی سزا
۵ / جمادی الاولی ۱۴۰۱ھ مفقودالخبر شوہر کی بیوی کا حکم ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (1) زید کی بیوی ہندہ زید کو چھوڑ کر بکھر کے پاس چلی گئی بغیر نکاح کے بکر کے پاس رہنے لگی ۔ رہتے ہوئے آٹھ سال گزر گیا اس کے بعد زید نے اپنی بیوی ہندہ کو طلاق دے دی۔ ہندہ بکر کے پاس ہی رہتی رہی طلاق کے چارسال بعد بکر سے نکاح ہو گیا اب ہندہ حاملہ ہے۔ بچہ پیدا ہونے میں صرف ایک مہینہ باقی ہے۔ کیا یہ نکاح درست ہوا یا نہیں ؟ اگر درست نہیں ہوا ہے تو قاضی اور وکیل اور گواہان اور جتنے لوگ نکاح میں شامل تھے ، ان لوگوں پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم صادر ہوگا۔ (۲) خالد اپنی بیوی ہندہ سے لڑائی جھگڑا کرنے کے بعد گھر سے نکل گیا خالد کا پتہ نہیں ہے کہ مرگیا ہے یا زندہ ہے؟ ہندہ نو سال سے اپنے شوہر کا انتظار کرتی رہی ، بعدہ اس نے بکر سے نکاح کر لیا۔ نکاح کئے ہوئے تقریباً سات سال گزر گئے۔ نکاح سے پہلے اور نکاح کے بعد کل مدت پندرہ سال ہوئے ۔کیا شریعت مطہرہ میں یہ نکاح درست ہوا ہے یا نہیں؟ شوہر کو چلے جانے کے کتنے دن تک بیوی شوہر کا انتظار کرے گی؟ شریعت نے کتنے دن کی مدت مقرر کی ہے؟ بہت جلد جواب عنایت فرمائیں! المستفتی: محمد کالے خاں، محلہ رضا نگی، قصبہ پور نپور ضلع پیلی بھیت
الجواب: (1) اگر شوہر نے طلاق دے دی اور عدت گزرگئی پھر بکر سے نکاح ہوا تو نکاح صحیح ہے جبکہ کوئی اور مانع شرعی نہ ہو اور مردوزن جتنی مدت بے نکاح ساتھ رہے ، سخت گنہگار بد کا روز نا کار ہوئے تو بہ دونوں پر فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ہندہ پر لازم تھا کہ وہ حاکم شرع کے حضور مفقودی شوہر کا دعوی کرتی وہ بعد ثبوت چار سال مدت مقرر کرتا جس میں ہر ممکن کوشش اسے پانے کی کی جاتی پھر جب نہ ملتا تو بار دیگر اس کے حضور آتی ، اب وہ شوہر کی موت کا حکم کرتا اور اسے چار ماہ دس دن عدت میں بیٹھنے کا حکم کرتا پھر عورت جس کفو سے چاہتی، نکاح کر لیتی ۔ اسے از خود نکاح کر لینا ہمارے مذہب حنفی پر روانہ تھا پھر یہ نکاح بکر نے اسے منکوحۃ الغیر جانتے ہوئے کیا تو محض باطل ہوا اور اگر اسے معلوم نہ تھا تو فاسد ہوا اور متارکہ فرض ہے اور حاکم شرع کے حضور عورت کو حاضر ہو کر ضرور کا رروائی کرنا لازم ہے۔ اور فی زماننا اعلم علمائے بلد سنی صحیح العقیدہ مرجع فتویٰ قائم مقام حاکم کے ہے کمافی الہدایۃ عن الامام العتابی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی