شوہر سات سال سے غائب ہونے اور عورت کے غیر سے حاملہ ہونے کی صورت میں شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک لڑکالڑ کی کی شادی ہوئی ، شادی ہوئے قریب ۷ سال سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ یعنی پہلی ہی بار وداع ہو کر لڑکی اپنی سسرال کو آئی پھر اس کے والد لڑ کی کی وداع کرانے واپس آئے ۔ لڑکا اسی رات میں گھر سے نکل گیا لڑکے کا ابھی تک پتہ نہیں چلا۔ لڑکے کو گم ہوئے سات سال ہو گئے ہیں۔ جہاں جہاں وہم و گمان تھا ، وہاں وہاں تلاش کر لیا مگر پھر بھی وہ نہیں ملا۔ اب لڑکی کا اصل قریب پانچ ماہ کا ہے جس لڑکے کا حمل ہے وہ اقرار کر رہا ہے کہ مجھ ہی سے حمل ہے اور لڑکی بھی اقرار کر رہی ہے کہ یہ فعل انہیں سے ہے۔ مہربانی فرما کر اس کا جواب ابھی مطلع فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی
الجواب: ہمارے ائمہ اعلام کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ جب تک اس لڑکے کی موت وحیات کا کچھ علم نہیں تو اس کی بیوی اس کی عمر کے ستر سال گزرنے تک اسی کی بیوی رہے گی اور اسے اس مدت میں دوسرے سے نکاح حلال نہ ہوگا۔ حدیث میں ہے: امراة المفقود امرأته حتى يأتيه البيان (1) مگر جبکہ ضرورت ملجنہ ہو تو امام مالک کے مذہب پر عمل کی اجازت ہے۔ ان کا مذہب یہ ہے کہ عورت حاکم شرع ( کہ اب ہر جگہ کا بڑا عالم سنی صحیح العقیدہ مرجع فتویٰ ہے ) کے حضور استغاثہ کرے وہ بعد ثبوت چارسال کی مہلت دے گا۔ اس میں شوہر کو تلاش کیا جائے گا اگر نہ ملے تو عورت پھر حاکم کے پاس آئے اب حاکم اس کی موت کا حکم کرے گا اور چار مہینہ دس دن (عدت وفات ) گزارنے کا عورت کو حکم دے گا جس کے بعد عورت کو اختیار ہوگا کہ جس سے نکاح جائز ہو، کر لے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله