شوہر کے ظلم و ستم، نان و نفقہ نہ دینے اور معلق طلاق کے اسٹامپ پیپر سے متعلق مسئلہ
عرصہ میں دولڑکیاں اور ایک لڑکا پیدا ہوا اور جب لڑکا پیدا ہوا تو میرا مرد مجھے بھول گیا۔ اور لوگوں نے چندہ کر کے میری زچگی کا انتظام کیا اور میرا مرد صدیق آج آٹھ سال سے مجھے روٹی کپڑا نہیں دیتا اور مجھے مار پیٹ کر گھر سے نکال چکا ہے۔ میں اپنے بھائی محمد کے پاس رہتی ہوں جو میری روٹی کپڑے کے کفیل ہیں۔ ایک دفعہ کچھ آدمیوں نے میرے مردصدیق کو سمجھا بجھا کر مجھے بھیج دیا۔ اور اس نے وعدہ کیا کہ اب کبھی مار پیٹ نہیں کروں گا۔ مگر اس نے مجھ پر بڑی سختی کی اور مار پیٹ کر گھر سے پھر نکال دیا۔ آخر میرے مردصدیق کو لوگوں نے بڑی لعن طعن کی کہ آئے دن فتنہ پیدا کرتا ہے، اچھا نہیں ہے۔ تب میرا مرد ایک اسٹامپ لایا اور ان آدمیوں کے سامنے وعدہ کیا کہ اب میں کبھی نہیں ماروں گا۔ اگر اب ماروں گا تو میری طرف سے تین طلاق سمجھی جائے۔ میں یہ عالم خان پٹھان، شیخ اسماعیل نئے ڈیرے والے، ابراہیم پنر جی اور چودھری عبد الشکور اور شیخ اسماعیل ڈونگر پور والوں کے سامنے یہ اسٹامپ پر لکھ کر وعدہ کرتا ہوں۔ اور وہ کاغذ اس نے اپنے پاس ہی رکھ لیا اور مجھے نہیں دیا۔ اور دونوں لڑکیاں بڑی ہیں، لے گیا اور اپنے ساتھ رکھتا ہے اور مجھے نہ کپڑا دیتا ہے نہ روٹی، کچھ بھی نہیں دیتا اور نہ طلاق دیتا ہے ( کہ مہر ادا کرنا پڑے گا ) اب میں عرصہ دراز سے اپنے بھائی محمد ہی کے پاس رہتی ہوں اور پریشان ہوں۔ آخر کار ایک دفعہ میرے بھائی نے میرے روٹی کپڑا دینے کے لئے عدالت میں مقدمہ کر دیا اور مجسٹریٹ صاحب نے میرے مرد صدیق سے کہا کہ تم اپنی بیوی کو اپنے گھر لے کر نہیں آتے تو کم سے کم روٹی کپڑے کے لئے ہر ماہ پچاس روپیہ اپنی بیوی کو دیا کرو۔ مگر میرا مر صدیق خاموش رہا اور اس کے وکیل نے کہا کہ یہ پچاس روپیہ کہاں سے دے گا یہ تو پاگل ہے اس پر عدالت نے فیصلہ کر دیا کہ اگر یہ پاگل ہے اور اپنی بیوی کے روٹی کپڑے کا انتظام نہیں کر سکتا تو عورت مذکور کو اختیار ہے کہ وہ اپنے گزارے کے لئے دوسرا ٹھکانہ کر لے۔ اب برائے کرم مجھے شرعی مسئلہ سے آگاہ فرما دیں کہ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ مسماۃ زیتون، ۱/۲۳ پریل ۱۹۷۵ء
الجواب خص مذکور سخت گنہ گار ظالم جفا کار حق اللہ وحق العبد میں گرفتار مستوجب عذاب شدید نار ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی منکوحہ کو بھلائی کے ساتھ رکھے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دے۔ قال تعالى : { فإمساك بمعروف أو تَني بِإِحْسَانٍ الآية } وہ بے وجہ شرعی ( بر تقدیر صدق سوال ) اپنی بیوی کو مارتا پیٹتا ہے اور اللہ سے نہیں ڈرتا کہ وہ اس پر زیادہ قادر ہے، نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ} اپنی عورتوں کے ساتھ بھلائی سے زندگی گزارو۔ اور سنئے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {وَيَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا آمَنَتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ} اے ایمان والو! اللہ و رسول سے خیانت نہ کرو اور اپنی امانتوں میں خیانت نہ کرو جانتے بوجھتے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ،، الامانات الاعمال التي ائتمن الله تعالى عليها العباد امانت وہ اعمال ہیں جن پر اللہ نے اپنے بندوں کو امین بنایا ہے تو عورت کے ساتھ حسن سلوک اور اس کے تمام حقوق نفقہ و مہر اور خود وہ عورت اللہ کی امانت ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن مرد سے محاسبہ ہو گا اسی لئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: الا واستوصوا بالتاء خيرا فانهم عوان عندكم ليس تملكون منهن شيئا غير ذالک الا ان ياتين بفاحشة مبينة فان فعلن فاهجروهن فى المضاجع واضربوهون ضربا غير مبرح فان اطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا الا ان لكم على نسائكم حقا ولنسائكم عليكم حقا فحقكم عليهن ان لا يوطئن فزينتكم من تكرهون ولا ياذن في بيوتكم لمن تكرهون والا وحقهن عليكم ان تحسنوا اليهن في كسوتهن وطعامهن (۱) یعنی حضور پرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سنو آپس میں ایک دوسرے کی عورتوں کے ساتھ بھلائی کا حکم کرو کہ وہ تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ کی امانتیں ہیں تم کچھ ان کے مالک نہیں لیکن یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کریں تو انہیں اپنے پاس نہ سلاؤ اور انہیں مارو، مگر نہ ایسا کہ جسم پھٹے ، تو اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو ان پر ظلم نہ کرو، سنو تمہارا تمہاری عورتوں پر حق ہے اور تمہاری عورتوں کا تمہارے اوپر حق ہے، تو تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر کو تمہارے لئے مہیا کریں، جسے تم نا پسند کرتے ہو نہ ایسے کو تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت دیں سنو اور تمہاری عورتوں کا حق یہ ہے کہ تم انہیں اچھا کھلاؤ ، اچھا پہناؤ ( اپنی وسعت بھر ) ۔ قال تعالیٰ: {عَلَى الْمُوسِع قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدْرُهُ الآية } (۲) رواہ الترمذی وقال حسن صحیح غریب و ابن ماجه عنه قال صلى الله تعالی علیه وسلم انه قاله في حجة الوداع بعد ان حمد الله تعالى واثنى عليه و ذكروا وعظ كذا في الزواجر بالجملہ وہ اللہ و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کا اور اپنی عورتوں کا ، ان کے حقوق میں خائن ہے۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {وَانَّ اللهَ لا يَهْدِى كَيْدَ الْخَائِنِينَ} (۳) اللہ خانیوں کے مکر کو راہ نہیں دیتا والعیاذ باللہ تعالی بلکہ انہیں دنیا میں توفیق سے محروم اور قیامت میں رسوا فر مائے گا۔ بالجملہ اس پر تو بہ لازم ہے۔ پھر اگر بھلائی کے ساتھ رکھنے پر قادر ہو تو اپنی بیوی کو رکھے اور اس کے حقوق کو ادا کرے اور اس سے حسن سلوک کرے ورنہ بھلائی کے ساتھ چھوڑ دے۔ قال تعالی : {فَلا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ } (۴) الزواجر الكبيرة الرابعة والخامسة والسبعون بعد المأتين، منع الزوج حقا من حقوق زوجته الواجبة عليها-الخ (1) (۲) سورة البقرة - ٢٣٦ (۳) سورة يوسف-۵۲ (۴) سورة النساء- ١٢٩ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انہیں ادہر میں نہ لٹکاؤ۔ وہ اگر نہ چھوڑے تو عورت جو صورت بن پڑے مہر معاف کر کے یا کچھ مال دے کے یا اہل اثر کے دباؤ سے اس سے زبانی طلاق حاصل کر لے، عدت کے بعد وہ مختار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ! فی الواقع صورت مسئولہ میں یہی حکم ہے اور کچہری سے آزادی کرا لینے سے شرعاً عورت نکاح سے باہر نہیں ہوتی اور دوسرے سے نکاح کرنے کا حق نہیں ہوتا ہے۔ لہذا وہ شوہر سے رہائی کی تدبیر کرے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی