عدت میں نان و نفقہ شوہر پر لازم ہونے اور تین طلاقوں کے وقوع کا مسئلہ
عدت میں نان و نفقہ شوہر پر لازم ہے! حضرت قبلہ مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ خیریت دارم و خیریت خواہم ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: رمضان خاں نے تقریباً دس آدمیوں کے سامنے مسجد کے صحن میں بعد عشاء کہا کہ میں نے اپنی بیوی صاحبہ خاتون کو طلاق دی، میں نبھانا نہیں چاہتا۔ یہ الفاظ اس کی زبان سے تین مرتبہ نکلے تو ایسی صورت میں کون سی طلاق واقع ہوگی؟ اگر طلاق مغلظہ واقع ہوئی تو ایسی صورت میں لڑکی مہر کے مطالبہ کے ساتھ جہیز اور نان ونفقہ کا مطالبہ کر سکتی ہے یا نہیں؟ برائے کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ فقط والسلام ! محمد ابراہیم بن حاجی محمد حنیف ،ساکن کرم ضلع اکولہ (مہاراشٹر )
الجواب: سوال رمضان کے نام نہ کرنا چاہئے تھا بلکہ زید وعمرو وغیر لکھنا چاہئے تھا کہ یہ آداب سوال ہے۔ اگر یہ امر واقعہ ہے جو تحریر ہوا تو تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور بیوی اس کے شوہر پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی اور مہر کی ادائیگی شوہر پر عند الطلب فوراً لازم ہوگئی ۔ اور جہیز عورت کی ملک ہے، اسے اس کے سپر دکرنا بھی لازم ہے۔ اور عورت کا نفقہ بھی دینا ضر ور جبکہ عورت شوہر کے یہاں عدت کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله یکم جمادی الآخر ۱۴۰۴ھ